بند کریں
صحت مضامینمضامینذہنی پریشانی دور کرنے کے پانچ موثر ترین طریقے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ذہنی پریشانی دور کرنے کے پانچ موثر ترین طریقے
انسانی فطرت کا خاصا یہ ہے کہ کئی ناخوشگوار حالات، کیفیات اور محسوسات اسے ذہنی طور پر بہت جلد پریشان کردیتی ہیں۔ اس ذہنی پریشانی کے باعث ، ذہن جسم اور روح کے مابین نہایت نفیس اور لطیف تعلق خراب ہوجاتا ہے ۔
انسانی فطرت کا خاصا یہ ہے کہ کئی ناخوشگوار حالات، کیفیات اور محسوسات اسے ذہنی طور پر بہت جلد پریشان کردیتی ہیں۔ اس ذہنی پریشانی کے باعث ، ذہن جسم اور روح کے مابین نہایت نفیس اور لطیف تعلق خراب ہوجاتا ہے ۔ اعصابی تناؤ، تذبذب، بے چینی ، شدید اضطراب اور بے زاری کی کیفیات لاحق ہوجاتی ہیں۔ ڈاکٹر کوہٹ شیفرڈ(Dr.kohut shepherd) جو کامن ویلتھ گولڈ میڈلسٹ ماہر نفسیات ہیں، نے ہرقسم کی ذہنی پریشانی سے نجات حاصل کرنے کے ضمن میں ایک پانچ نکاتی پروگرام متعارف کرایا ہے ۔
ذہن پر مسلط پریشانی کو جھٹلاکرختم کردیں :
ہم نے اپنی ذہن پر کئی قسم کی بے بنیاد اور غیر حقیقی پریشانیوں کو خود مسلط کیا ہوتا ہے ۔ آپ سب سے پہلے جو پریشانی زیادہ شدت کے ساتھ لاحق ہے، اسے منطقی طریقے سے جھٹک کرجھٹلادیں اور اپنے ذہن وقلب کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھیں ۔ آپ سرے سے اس پریشانی کے وجود کو تسلیم کرنے سے جرات کے ساتھ انکار کردیں ۔
اپنی ذہنی پریشانی کے احساس کہ اگر کوئی شے اگلے وقت کے لیے ملتوی کردیں :
ڈاکٹر کوہٹ نے کہا کہ اگر کوئی شے اگلے وقت کے لیے ٹالنے اور ملتوی کرنے کے لائق ہے تو وہ آپ کی موجودہ ذہنی پریشانی ہے۔ آپ ا س پریشانی کے دباؤ سے اپنے آپ کو نکال لیں اور اسے اگلے وقت کے لیے ٹال دیں۔ آپ اپنے آپ کو باورکرائیں کہ موجودہ وقت اس پریشانی کو ذہن پر غالب کرنے کے لیے ہرگز مناسب نہیں ۔ اس طرح آپ اس پریشانی کے احساس سے وقتی آزادی حاصل کرلیں۔
ذہن کو لاحق خدشات اور خوف کاسامنا کیجیے :
آپ ذہنی طورپر اپنی قوت کو مرتکز کرتے ہوئے اپنی اس پریشانی کا حقیقی طور پر تجزیہ کریں۔ اس موجودہ مسئلہ یاپریشانی کے عناصر اور عوامل کابغورہ جائزہ لیں اور اس پریشانی کے ساتھ جوخطرات اور خدشات لاحق ہیں، ان کا دلیری سے سامناکریں اور عزم کرلیں کہ اس پریشانی کا وجود آج ہر حالت میں ختم ہوجانا چاہیے ۔
اپنے دائرہ اثر میں پریشانی کا عملی حل نکالیے :
آپ ایک کاغذ لے کر اس موجودہ پریشانی کے نوٹس تیار کریں۔ اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیں اور اپنے محدود دائرہ اثر میں تمام اسباب ، ذرائع اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اس پریشانی کا بہترین حل نکالیں۔ ڈاکٹر کوہٹ نے کہا ۔ ” پیاس اس لیے لگتی ہے کہ پانی پیا جائے ، پریشانی اس لیے لاحق ہوتی ہے کہ ہم خود ہی اس کاحل اپنی قابلیت سے کریں۔
پریشانی کے اس دباؤ اور خوف سے تعمیری کام لیجیے :
اپنی موجودہ ذہنی پریشانی کو اپنی ترقی، بہتری اورخوشحالی کے لیے ایک جواز، بہانہ ، زینہ اور چیلنج سمجھیں اور اس موقع سے مثبت اور تعمیری مقصد حاصل کریں ۔ آپ اس پریشانی کا روشن پہلو نکالیں اور نہ صرف اس کے دباؤ اور خوف سے اپنا حوصلہ پست کریں بلکہ اس دباؤ کو بطور ” جوش وخروش “ سمجھ کر اس سے مثبت اور تعمیری نتیجہ اور فائدہ حاصل کرلیں ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے