Garmiyon Main Pathoon Ki Akraan

گرمیوں میں پٹھوں کی اکڑن

Garmiyon Main Pathoon Ki Akraan

محمد عثمان حمید
پاکستان میں موسم گرما اپنے عروج کی طرف گامزن ہے۔دھوپ کی تمازت بڑھتی چلی جارہی ہے اور متعدد علاقوں میں لُو چلنے لگی ہے۔جھلسا دینے والی دھوپ اور حواس باختہ کر دینے والی گرمی اپنے ساتھ کئی امراض لے کر آتی ہے ۔ان میں سب سے زیادہ خطرناک ہیٹ اسٹروک
(HEAT STROKE)یعنی لُو لگ جانا ہے،جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔

اس کے علاوہ سخت گرم موسم کئی دوسرے جسمانی عوارض کا بھی سبب بنتا ہے ،جیسے کہ سخت گرمی کی وجہ سے پٹھوں اور عضلات میں اینٹھن اور تشنج کی کیفیت کا پیدا ہونا ہے۔پٹھوں اور عضلات میں اکڑن اس وقت پیدا ہوتی ہے،جب سخت گرم موسم میں مشقت کی جائے اور اس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی مقدار کم ہو جائے۔اس سے جسم کے بڑے پٹھے متاثر ہوتے ہیں ،مثلاً ران ،پنڈلی ،پیٹ ،کمر اور بازو کے عضلات ۔

(جاری ہے)

اسے عضلاتی تشنج(HEAT CRAMPS)بھی کہتے ہیں۔
پٹھوں میں اینٹھن اگر چہ لُولگنے کی طرح خطر ناک اور جان لیوا نہیں ہوتی،مگر اس کی وجہ سے انسان شدید تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے۔سخت گرم موسم میں اس کے لیے معمول کی سرگرمیاں اور کام کاج جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔عام طور پر سخت گرم موسم میں جسمانی مشقت کے دوران ہی عضلات کی اینٹھن سے واسطہ پڑتا ہے ،مگر بعض اوقات محنت مشقت یا کام ختم ہونے کے بعد بھی پٹھے اکڑنے لگتے ہیں۔


زیادہ شکار کون ہوتے ہیں؟
عام طور پر پٹھوں کی اینٹھن کا شکار گرم موسم میں جسمانی مشقت کرنے والے افراد ،یعنی مزدور ہوتے ہیں ۔ان میں بھی وہ مزدور ،جن کے جسموں میں گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔محنت کشوں کے علاوہ شیر خوار اور چھوٹے بچوں کے عضلات میں بھی اینٹھن ہو سکتی ہے،کیوں کہ وہ گرمی سے بچنے اور پانی وغیرہ پینے کے لیے دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ گرمی میں چھوٹے بچوں کو ہلکا پھلکا لباس پہنائیں اور انھیں مناسب مقدار میں پانی ،دودھ اور مشروبات پلاتے رہیں۔سخت گرم موسم میں عمر رسیدہ افراد کے پٹھوں میں بھی اکڑن ہو سکتی ہے ،خاص طور پر اس صورت میں کہ جب وہ دل اور پھیپھڑوں وغیرہ کی بیماری کا شکار ہوں۔مذکورہ بیماریوں کے نتیجے میں ان کے جسموں میں بہت جلدپانی کی کمی ہو جاتی ہے۔


بعض دوائیں جسم سے پسینے اور گرمی کے اخراج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان ادویہ کو کھانے والے افراد سخت گرمی میں عضلاتی تشنج میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
وجوہ
عام طور پر جسم میں پانی کی کمی اور نمکیات کے عدم توازن کو پٹھوں میں اکڑن اور اینٹھن کا سبب سمجھا جاتا ہے ،تاہم اس ضمن میں کئی اور آرا بھی بیان کی جاتی ہیں۔پٹھوں میں اینٹھن چوں کہ گرم ماحول میں زیادہ جسمانی مشقت کے باعث جسم سے پسینے کے زیادہ اخراج کے بعد ہونے لگتی ہے،اس لیے ایک رائے یہ ہے کہ پانی اور سوڈےئم کی کمی کی وجہ سے عضلات کی پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق زیادہ مشقت کے نتیجے میں عضلات تھک جاتے ہیں اور پھیلنے وسکڑنے کی صلاحیت کا اختیار کھودیتے ہیں۔بہر حال وجہ کوئی بھی ہو ،عضلاتی تشنج کی تشخیص کا طریق علاج ایک ہی ہے۔
علامات
یہ بات واضح رہے کہ عضلاتی تشنج سخت گرم موسم میں لُو لگنے کی ابتدائی علامت ہے۔عضلاتی تشنج کی علامات میں جسم سے پسینے کا زیادہ مقدار میں اخراج اور جسم کے بڑے پٹھوں میں اکڑن کا ہونا شامل ہے۔

اینٹھن عموماًان پٹھوں میں ہوتی ہے،جو استعمال ہوتے رہے ہوں۔
دوڑ اور فٹ بال کے کھلاڑیوں کی ٹانگوں کے عضلات اکڑ جاتے ہیں ۔ان کے بازویا پھر پیٹ کے عضلات میں اینٹھن پیدا ہو سکتی ہے۔
عضلاتی تشنج کا آغاز زیادہ جسمانی مشقت کے دوران یا فوراً مشقت کے بعد ہوتا ہے ،تاہم بعض صورتوں میں جسمانی مشقت ختم ہونے کے کئی گھنٹوں بعد بھی اس کیفیت سے واسطہ پڑ سکتا ہے۔


علاج
گرمی کی وجہ سے ہونے والی عضلاتی اینٹھن کا علاج خود بھی کیا جا سکتا ہے ۔سب سے پہلے تو متاثرہ فرد کو جسمانی سرگرمی ترک کروا کے ٹھنڈی سایہ دار جگہ پر لٹا دینا چاہیے۔بطور علاج اکڑ جانے والے پٹھوں کی ہلکے ہاتھ سے مالش کی جائے اور جسم میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے والے مشروبات پلائیں جائیں۔

اگر مندرجہ بالاتدبیر کے باوجود پٹھوں کی اکڑن دور نہ ہوتو پھر معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
عضلاتی تشنج سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔جو فرد اس کا شکار ہو چکا ہو ،اس کے دوبارہ اس کیفیت میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔کچھ پیشوں سے وابستہ افراد بھی پٹھوں کی اکڑن کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں ،جیسے تعمیراتی عمارتوں پر کام کرنے والے محنت کش ۔

انھیں نہ صرف چلچلاتی دھوپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے،بلکہ بعض اوقات کام کے دوران عمارت کی کھڑکیوں اور دروازوں وغیرہ میں لگے ہوئے شیشوں سے منعکس ہوتی شمسی شعاعیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔اُن کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ محنت مشقت کرتے ہوئے وقفے وقفے سے وہ سائے میں جاکر آرام کریں اور جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے والے مشروبات پییں۔

تاریخ اشاعت: 2019-07-12

Your Thoughts and Comments