Diabetes - Type 2 Se Bachne Ka Wahid Haal Ehtiyat Hai - Article No. 2094

ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے - تحریر نمبر 2094

پیر مارچ

Diabetes - Type 2 Se Bachne Ka Wahid Haal Ehtiyat Hai - Article No. 2094
حکیم احمد حسین اتحادی
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے مریضوں کی تعداد میں خطیر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ذیابیطس امراض قلب،گردوں اور دماغی و اعصابی بیماریوں،فالج اور نظر کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ ذیابیطس ہونے سے قبل جسم انسانی میں ایسی علامات رونما ہوتی ہیں جن پر توجہ کرنے اور احتیاط برتنے سے اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچا جا سکتا ہے یا کم از کم اسے موٴخر کیا جا سکتا ہے۔

ایسی حالت میں خون میں شوگر کی مقدار نارمل سے زیادہ ہوتی ہے مگر اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ اُسے ذیابیطس کہا جا سکے۔اسے ذیابیطس سے پہلے کی حالت یا Prediabetes کہتے ہیں۔
ذیابیطس سے پہلے کی حالت یا Prediabetes کے اہم اسباب میں چربی کی زیادتی یعنی موٹاپا خاص طور پر پیٹ کی چربی اور سست روی یا ورزش کا فقدان قابل ذکر ہیں۔

(جاری ہے)

عام طور پر ذیابیطس ہونے سے پہلے کی علامات 5 سال تک برقرار رہیں تو ذیابیطس ٹائپ 2 ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اس میں اچھی بات یہ ہے کہ ایسی خواتین و حضرات بروقت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔
ذیابیطس کا مرض دراصل انسولین کے باقاعدہ عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔انسولین ایک ہارمون ہے جو معدہ کے پیچھے واقع عضو لبلبہ Pancrease میں پیدا ہوتا ہے۔جب ہم کھانا کھاتے ہیں ہمارا لبلبہ خون میں انسولین خارج کرتا ہے۔

انسولین دوران خون میں شامل ہو کر شکر یعنی گلوکوز کو خلیات میں داخل کرتا ہے جس سے خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے۔مگر جب لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہ کرے یا خلیات میں انسولین کے خلاف رد عمل پیدا ہو جائے اور انسولین خلیات کو گلوکوز یعنی شکر مہیا نہ کرے تو ایسی حالت کو ذیابیطس کہتے ہیں۔
ذیابیطس ہونے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

وزن کی زیادتی یا موٹاپا،سست روی یا ورزش کا فقدان، 45 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں موروثیت یعنی ایسے افراد جن کے خاندان میں ذیابیطس ٹائپ 2 موروثی طور پر پایا جائے،دوران حمل ذیابیطس ہونا یا پیدائش کے وقت بچے کا وزن 9 پونڈ یا 4.1 گلو گرام سے زیادہ ہو،خواتین میں پولی سسٹک اووری سنڈروم،جو کہ بے قاعدہ حیض،غیر ضروری بالوں کی پیدائش کی زیادتی اور موٹاپے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

ایسے عوامل ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ نیند کی کمی انسولین کی مزاحمت (Resistance) کے خطرہ کو بڑھاتی ہے تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ روزانہ رات کو 6 گھنٹے سے کم نیند ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرہ کو بڑھا سکتی ہے۔ہائی بلڈ پریشر،اچھی چکنائی یعنی HDL کی سطح میں کمی اور بُری چکنائی LDL یا ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح میں زیادتی بھی ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہیں۔


ذیابیطس میں منتقل ہونے کی علامات میں بہت زیادہ اور بار بار پیشاب کا آنا،پیشاب میں جھاگ کا بننا،بار بار پیاس محسوس کرنا،وزن کم ہوتے جانا،بھوک اور پیاس کا بہت زیادہ لگنا یا بہت کم ہو جانا،نظر کے مسائل،کھجلی،مزاج میں تبدیلی،تھکاوٹ یعنی ہر وقت تھکے تھکے محسوس کرنا،زخم ٹھیک نہ ہونا شامل ہیں۔ایسی صورتحال میں اپنے معالج سے فوری رابطہ کریں۔

بعض شوگر کے مریضوں میں یہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں کیونکہ ابتدائی مراحل میں علامات کم ہی ظاہر ہوتی ہیں۔
امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کے مطابق خون میں شوگر کی سطح کو درج ذیل ٹیسٹوں کی مدد سے لازمی چیک کرنا چاہیے HbA1C Test اس ٹیسٹ میں A1C کی سطح 5.7 سے 6.4 کے درمیان ہو تو قبل ذیابیطس (Prediabetes) اور 6.5 یا اس سے زیادہ ہو تو ذیابیطس ظاہر کرتی ہے۔

HbA1C ٹیسٹ آپ کی گزشتہ تین ماہ کی اوسط شوگر لیول کو ظاہر کرتا ہے۔Fasting Blood Sugar Test یہ ٹیسٹ خالی پیٹ کیا جاتا ہے۔اس ٹیسٹ میں خون میں 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر شوگر کی مقدار نارمل ہے اور اگر 100 تا 125 ملی گرام ہو تو قبل ذیابیطس اور 126 ملی گرام سے زائد ہو تو ذیابیطس کی علامت ہے۔Oral Glucose Tolerance Test یہ ٹیسٹ کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعد کیا جاتا ہے۔اگر اس ٹیسٹ کی رپورٹ 140mg/dl ہو تو نارمل اور اگر 140mg/dl سے 199mg/dl ہو تو قبل ذیابیطس اور 200 mg/dl سے زائد سطح ذیابیطس کی علامت ہے۔


اگر ذیابیطس سے پہلے یعنی Prediabetes کی علامات پیدا ہو جائیں تو صحت مند طرز زندگی خون میں شوگر کی سطح کو واپس طبعی مقدار میں بدل سکتی ہے یا کم از کم اس سطح کو ذیابیطس ٹائپ 2 کی سطح تک بڑھنے سے روک سکتی ہے لہٰذا درج ذیل ہدایت پر عمل کرکے ذیابیطس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔کم چکنائی اور کم حراروں والی ریشہ دار غذا استعمال کریں۔ذیابیطس کے مریض چینی،میٹھے کولڈ ڈرنکس،سفید چاول، میدہ،سوجی،بیکری کی اشیاء زیادہ نشاستہ والی اشیاء،چکنائی اور تلی ہوئی چیزیں مکمل بند کر دیں۔

پھلوں،سبزیوں اور چھلکے سمیت اناج پر زیادہ توجہ دیں،تمباکو نوشی اور شراب نوشی چھوڑ دیں اور ہمیشہ سادہ غذائیں کھائیں۔تازہ کریلا کا جوس،آملہ، کری پتہ اور سیب کا سرکہ خون اور پیشاب میں ذیابیطس کو کم کرتے ہیں۔ہفتہ میں کم از کم 5 دن روزانہ 30 منٹ سے ایک گھنٹہ تیز قدموں کے ساتھ پیدل چلیں یا جسمانی مشقت یا ورزش لازمی کریں اور اگر آپ اس قابل نہیں کہ مسلسل ورزش کر سکیں تو اسے سارے دن میں وقفہ وقفہ سے بھی سر انجام دے سکتے ہیں،زائد وزن کم کریں۔

دوران حمل،بحالت روزہ اور دوران سفر معالج کے مشورہ سے خوراک کھائیں۔زمانہ حمل میں خواتین بہت احتیاط کریں۔یاد رکھیں کہ صحت کے اصولوں کو اپنا کر ذیابیطس کے ساتھ بھرپور نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ذیابیطس سے بچنے کے لئے شعورو آگاہی ضروری ہے کہ ذیابیطس ہونے سے پہلے یعنی Prediabetes کی علامات ظاہر ہونے کے بعد صرف معمولات زندگی میں مناسب تبدیلی کرکے ہم ذیابیطس جیسی بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ذیابیطس تاحال لاعلاج مرض ہے۔یہ طریقہ علاج میں ادویات کے ذریعے اسے صرف کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔اس لئے ذیابیطس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ اس خطرناک مرض کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2021-03-01

Your Thoughts and Comments