Ziabities Ke Mareezon Ke Liye Behtareen Mewa Jaat

ذیابیطس کے مریضوں کیلئے بہترین میوہ جات

Ziabities Ke Mareezon Ke Liye Behtareen Mewa Jaat

رابعہ شیخ
ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے ،جس کے مریض اسی پریشانی کا شکار رہتے ہیں کہ کون سی غذائیں کھائیں اور کون سی نہیں ۔ان مریضوں کاڈائٹ چارٹ ہو یا ایکسر سائز روٹین،احتیاط لازمی سمجھی جاتی ہے ۔آج ہم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ان ضروری میوہ جات پر بات کرنے جارہے ہیں ،جو ان مریضوں کی صحت کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔
میوہ جات کا استعمال مفید یا مضر
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے میوہ جات کے استعمال پر طبی ماہرین کی رائے مختلف نظر آتی ہے ۔

طبی ماہرین کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو ڈرائی فروٹ کے استعمال سے پر ہیز کرنا چاہیے،کیونکہ یہ سوکھے ہوئے پھل ہوتے ہیں اس لیے ان میں تازہ پھل کے حساب سے پانی کی مقدار کم ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

اس کی وجہ سے میوہ جات میں موجود تمام غذائیت اور منرلز کی مقدار میں تازہ پھل کے مقابلے میں زیادہ فرق آجاتا ہے ۔
دوسرا گروپ ان طبی ماہرین کا ہے ،جو سخت چھلکوں والے گری دار میووں کو انسانی صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں ۔

کینیڈا کی ٹور نٹویونیورسٹی کے ریسر چرز کی ایک تحقیق کے مطابق خشک میوہ جات سے مراد صرف سخت چھلکوں والے گری دار میوے ہیں،جنہیں انگریزی میں Nutsکہتے ہیں ۔ان میں وہ پھل شامل نہیں ہیں،جن کو خشک کرکے استعمال کیا جاتا ہے ۔تحقیق کا روں کا کہنا ہے کہ سخت چھلکوں والے گری دار میووں سے خاص طور پر ذیابیطس کا کنٹرول موٴثر ہے ۔ان کے باقاعدہ استعمال سے خون میں شکر کی مقدار اور کولیسٹرو ل کو کنٹرول کرنا ممکن ہے۔


بادام
بادام ایک غذائیت سے بھر پور غذاہے جو وٹامن،پروٹین اور منرلز سے بھر پورہوتی ہے ۔طبی ماہرین بادام کو ایک ایسا میوہ کہتے ہیں ،جسے ذیابیطس کے مریض بغیر کسی پریشانی کے استعمال کر سکتے ہیں ۔امریکن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کے مطابق بادام کا استعمال ذیابیطس کنٹرول کرنے اور کولیسٹرو ل کی سطح بر قرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔

تحقیق کاروں کے مطابق روزانہ 6بادام شوگر کی سطح کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ایک تحقیق میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ کھانے کے بعد بادام استعمال کرنے سے جسم میں گلوکوز اور انسولین کی سطح قابو میں رہتی ہے ۔
اخروٹ
طبی ماہرین اخروٹ کو میگنیشیم ،فائبر،اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور لائنو لینک ایسڈ سے بھر پور غذا تسلیم کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ اخروٹ میں وٹامن ای،فولک ایسڈ ،زنک اور پروٹین وغیرہ بھی شامل ہیں ،جو بھوک کم کرنے کے ساتھ کم کیلیوریز کے ساتھ جسمانی توانائی بھی بڑھاتے ہیں جبکہ فائبر اور پروٹین بھوک کی اشتہا ختم کرنے اور بلڈ شوگر لیول کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق وہ تمام افراد جو اخروٹ کا استعمال روزانہ کرتے ہیں ان میں انسولین کا لیول متوازن رہتا ہے ۔


پستہ
طبی ماہرین ذیابیطس کے مریضوں کے لیے پستے کے استعمال کو بھی مفید تصور کرتے ہیں ۔ان کے مطابق پستہ انسلوین اور گلوکوز کی کار کردگی کو بہتر بناتا ہے ۔اسپین کے طبی ماہرین ایک تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پستے کو روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا ذیابیطس سمیت کئی امراض میں انتہائی مفید ہے ۔
کاجو
کاجو میں دیگر غذاؤں کے مقابلے میں کم چربی پائی جاتی ہے ۔

اس کے علاوہ کاجو ایسے قدرتی اجزا سے مالا مال ہوتا ہے ،جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ کاجو میں پائے جانے والے ”ایکٹو کمپاونڈز“ذیابیطس کو بڑھنے سے روکنے اور اس میں موجود پوٹاشیم جسم میں موجود شکر کی سطح کو بر قرار رکھنے میں مدد فراہم کرتاہے۔
مونگ پھلی
برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض میں مبتلا خواتین اگر ناشتے میں پی نٹ بٹر کا استعمال شروع کردیں تو 8سے12گھنٹوں میں گلوکوز کی سطح متوازن اور بھوک کی اشتہار قابو پانے میں مدد ملتی ہے ۔

چنانچہ ناشتے میں اسے کھانے کا معمول بنانا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔
نوٹ :یہ مضمون قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے ہے ذیابیطس کے مریض ان خشک میوہ جات کے استعما ل سے قبل اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

تاریخ اشاعت: 2019-05-03

Your Thoughts and Comments