بند کریں
صحت صحت کی خبریںفاٹا کے تمام طبی مراکز میں درکارعملے کی تعیناتی کو یقینی بنایاجائیگا، گورنرسرحد

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2009 - 17:17:02 وقت اشاعت: 09/11/2009 - 21:45:10 وقت اشاعت: 09/11/2009 - 12:26:56 وقت اشاعت: 08/11/2009 - 12:28:02 وقت اشاعت: 07/11/2009 - 13:16:04 وقت اشاعت: 05/11/2009 - 19:18:20 وقت اشاعت: 04/11/2009 - 19:34:56 وقت اشاعت: 04/11/2009 - 15:11:25 وقت اشاعت: 02/11/2009 - 17:24:22 وقت اشاعت: 01/11/2009 - 19:54:20 وقت اشاعت: 31/10/2009 - 16:13:48

فاٹا کے تمام طبی مراکز میں درکارعملے کی تعیناتی کو یقینی بنایاجائیگا، گورنرسرحد

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5 نومبر ۔2009ء)فاٹا میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں دستیاب سہولتوں میں بہتری لانے اور ان کو جدید خطوط پراستوارکرنے کی غرض سے نئی حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمدغنی کی صدارت میں بدھ کے روز گورنرہاؤس میں منعقدہ دو الگ الگ اجلاسوں میں دونوں شعبوں کیلئے تیار کی گئی حکمت عملی پر غورکیاگیا۔

صحت کے شعبے میں فاٹا کیلئے جس ماسٹر پلان پر غورکیاجارہاہے اس کے تحت صحت عامہ کی سہولتوں اور خدمات کو ایجنسی اور تحصیل کی سطح پر نئے خطوط پر استوارکیاجائیگا۔ تاکہ قبائیلی عوام کو معیاری اور پہلے سے بہتر طبی سہولتیں باآسانی دستیاب ہوسکیں۔ منصوبے کے تحت بنیادی صحت کی سہولتوں کو بھی کمیونٹی ہیلتھ مراکز کے ذریعے مستحکم بنایاجائیگا۔

اس مقصد کیلئے نہ صرف طبی عملے کے استعداد کار اور پیشہ ورانہ خدمات کو بہتربنایاجائیگا بلکہ مستقبل میں موثر اور کارآمد فیصلہ سازی کیلئے سائنسی بنیادوں پر مطلوبہ اعداد وشمار اکٹھے کرنے کی غرض سے ایجنسی کی سطح پر ہیلتھ انفارمیشن نظام بھی شروع کیاجائیگا۔ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ تقریباً 1 ارب 74 کروڑ روپے لگایاگیاہے۔ منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے سیکرٹری ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن فاٹا عابد مجید نے اجلاس کو بتایاکہ ایجنسی کی سطح پر بڑے ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ 4 رورل ہیلتھ سنٹرز اور 4 بنیادی صحت مراکز کو ڈی ٹائپ کے ہسپتالوں میں تبدیل کیاجائیگا جن میں 40 بستروں اور 4 سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی سہولت دستیاب ہوگی۔

اسی طرح ماؤں اور بچوں کی صحت کے 72 مراکز کو کمیونٹی ہیلتھ سنٹرمیں تبدیل کردیاجائیگا۔ منصوبے میں طبی عملے بالخصوص خواتین کے علاج معالجے کیلئے زنانہ طبی عملے کی کمی کو دورکرنے پربھی توجہ دی گئی ہے۔ فاٹا میں 4 ٹائپ کے ہسپتال ہوں گے جن میں سب سے بڑے A ٹائپ ہسپتال میں 350 بستریں اور 25 سپیشلسٹ ڈاکٹر تعینات کئے جائیں گے۔ گورنرنے منصوبے کو جلد ازجلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاکہ اس پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے تاکہ قبائیلی عوام کی طبی ضروریات ایجنسی کی سطح پر پوری کی جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت فاٹا میں طبی سہولتوں کو جدید خطوط پر استوارکرناچاہتی ہے اور اس مقصد کیلئے جو طر یقہ کاراختیارکیاجارہاہے اس کا بنیادی ہدف قبائیلی عوام کی طبی ضروریات پوری کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا کے تمام طبی مراکز میں درکارعملے کی تعیناتی کو یقینی بنایاجائیگا۔ گورنرنے کہاکہ صحت کے شعبے میں جاری منصوبوں کو جلد ازجلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک اورپریزنٹیشن میں گورنر کو تعلیم کے شعبے میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے آگاہ کیاگیا۔ اس منصوبے کے تحت فاٹا کے شہری مراکز میں ہرلحاظ سے مکمل تعلیمی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پریزنٹیشن دیتے ہوئے ڈائریکٹر ایجوکیشن فاٹا فضل منان نے منصوبے کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈ الی اور اجلاس کو فاٹا میں تمام دستیاب تعلیمی سہولتوں اور درکار سہولتوں سے آگاہ کیا۔

جن میں مختلف سطحوں کے تعلیمی اداروں کے علاوہ طلباء اور اساتذہ کے لئے ہاسٹلز ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی لیبارٹریاں ، ماڈل سکولز اور سپورٹس سٹیڈیم شامل ہیں۔ اجلاسوں میں سیکرٹری برائے گورنر ارباب محمدعارف کے علاوہ قائمقام ڈائریکٹر ہیلتھ فاٹا ڈاکٹرسرتاج اور محکمہ ہائے صحت وتعلیم کے دیگر حکام نے شرکت کی۔
05/11/2009 - 19:18:20 :وقت اشاعت