بند کریں
صحت صحت کی خبریںڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گرتی ہوئی صحت ‘ غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھنے اور خاندان کے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2006 - 22:06:33 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 19:20:52 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 17:08:23 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 16:25:33 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 15:37:28 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 15:08:17 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 14:39:58 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 12:22:37 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 12:20:59 وقت اشاعت: 09/11/2006 - 23:21:16 وقت اشاعت: 09/11/2006 - 22:37:24

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گرتی ہوئی صحت ‘ غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھنے اور خاندان کے افراد سے آزادانہ ملاقات نہ ہونے کے خلا ف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین10نومبر2006 ) نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گرتی ہوئی صحت ‘ غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھنے اور خاندان کے افراد سے آزادانہ ملاقات نہ ہونے کے خلا ف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں وفاق ‘ وزارت دفاع اور ڈائریکٹر آئی ایس آئی کو پارٹی بنایا گیا ہے۔ یہ درخواست چوہدری مسعود اختر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے دائر کی ہے ۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے بانی ہیں جس کی وجہ سے 1971ء سے ہم بھارت کے خلاف دفاع میں کامیاب ہوئے ہیں۔ نیو کلیئر حوالے سے ٹیکنالوجی کی دوسرے ممالک کو منتقلی کی خبریں اور بیانات جھوٹ کا پلند ہیں اور یہ سب کچھ امریکی دباؤ کا نتیجہ ہیں جس کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ٹیلی ویژن پر بھی ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ اسے ایسا بیان دینے پر مجبور کیا گیا تھا کہ اس نے نیو کلیئر ٹیکنالوجی منتقل کی تھی۔

ٹیکنالوجی کی منتقلی کے کے حوالے سے کرنل معمر قذافی اور وزارت ایران نے پاکستانی سائنسدان کی اس معاملے میں ملوث ہونے کو قطعی طور پر رد کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ یوایس اے نے بھی اس سے انکار کیا تھا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان اور اس کی بیوی کو ایسے مکان میں رکھا گیا ہے جو سیکیورٹی فورسز کے نرغے میں رہتا ہے جس کی وجہ سے ان کی آزادی سلب ہو کر رہ گئی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ کو کہا جائے کہ وہ ڈاکٹر قدیر خان کی صحت کے حوالے سے ان کی رائے کے مطابق 2 رکنی ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دیاجائے جو ان کی تشویش ناک حالت کا معائنہ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ مذکورہ سائنسدان کے گرد ایجنسیوں اور پولیس کا گھیرا ختم کیا جائے کیونکہ وہ کوئی ملزم نہیں ہیں۔
10/11/2006 - 15:08:17 :وقت اشاعت