بند کریں
صحت صحت کی خبریںدریائے سندھ :چشمہ بیر اج سے نکلنے والا ریلا بھکر پہنچ گیا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 02/08/2010 - 17:41:34 وقت اشاعت: 01/08/2010 - 20:51:11 وقت اشاعت: 01/08/2010 - 18:09:48 وقت اشاعت: 01/08/2010 - 17:55:33 وقت اشاعت: 01/08/2010 - 12:02:46 وقت اشاعت: 31/07/2010 - 11:52:19 وقت اشاعت: 30/07/2010 - 21:49:58 وقت اشاعت: 29/07/2010 - 17:52:17 وقت اشاعت: 28/07/2010 - 17:20:24 وقت اشاعت: 28/07/2010 - 17:17:14 وقت اشاعت: 28/07/2010 - 14:15:38

دریائے سندھ :چشمہ بیر اج سے نکلنے والا ریلا بھکر پہنچ گیا

کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔31جولائی 2010ء)دریائے سندھ میں چشمہ بیراج سے نکلنے والا نو لاکھ بیس ہزار کیوسک کا تباہ کن ریلا بھکر پہنچ گیا۔سپر بند سے ملحقہ بستیوں کو خالی کرالیا گیا،ہزاروں افراد نے کھلے آسمان تلے رات بسر کی۔ جناح پاور پراجیکٹ بچانے کے لئے کالا باغ بیراج میں شگاف ڈال دیا گیا،چنیوٹ، جھنگ اور راجن پور میں امدادی کارروائیوں کیلئے فوج طلب کر لی گئی۔

دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے باعث زیرتعمیر جناح ہائیڈرو پاور پلانٹ کو بچانے کے لئے بیراج کے بند میں شگاف ڈال دیا گیا ہے،جس سے داوٴد خیل ،عیسیٰ خیل،کالا باغ شہر اور کمر مشانی کے علاقوں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔سیلابی ریلے سے نواب آف کالا باغ کے تاریخی بنگلے بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔چشمہ بیراج سے نکلنے والا نو لاکھ بیس ہزار کیوسک کا بڑا ریلا بھکر پہنچ گیا ہے،جہاں سپر بند سے ملحقہ بستیوں کو خالی کرالیا گیا ہے،جس کے باعث ہزاروں افراد نے بھکر شہر میں ڈیرے ڈال لئے ہیں،انتظامیہ کا کوئی افسر وہاں موجود نہیں ہے۔

دریائے سندھ میں بھکر کے مقام پر بستی احمد شاہ ولی کو محفوظ رکھنے والا بند ٹوٹنے سے آٹھ دیہات زیرآب آگئے۔چشمہ بیراج سے نکلنے والا بڑا ریلا آنے سے ضلع بھر کی نو اور تحصیل کلور کوٹ کی بارہ بستیاں زیر آب آگئیں،سینکڑوں مکانات اور پچاس ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، بستی بلال اور بستی رحمان میں سیلاب کے باعث سینکڑوں افراد مکانوں کی چھتوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں،جبکہ جناح بیراج میں کالا باغ کے مقام پر سیلابی پانی کے ریلے میں چالیس ہزار کیوسک کی کمی ہوئی ہے۔

جناح بیراج سے گزرنے والا ریلہ آٹھ لاکھ ستانوے ہزار چھ سو اکانوے کیوسک ہے،چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کا اخراج نو لاکھ سینتیس ہزار نو سو بیس کیوسک ہے۔ سیلاب کی پیش گوئی کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ یکم اور دو اگست کے دوران چناب اور جہلم دریاوٴں میں بہنے والا تین سے ساڑھے تین لاکھ کیوسک پانی دریائے سندھ میں شامل ہوکر مٹھن کوٹ کے مقام پر بارہ لاکھ کیوسک تک کا ریلا بن جائے گا۔

دریائے چناب میں طغیانی کے باعث جھنگ کے چالیس سے زائد دیہات زیر آب آگئے جس سے ان علاقوں میں کپاس کی کھڑی تمام فصل تباہ ہوگئی ہے جبکہ سرگودھا کی تحصیل بھیرہ میں لاہور۔اسلام آباد موٹر وے پل کے قریب دریائے جہلم کا پانی دور دور تک پھیل گیا ہے،ادھر سرگودھا میں کلیان پور کا بند لوگوں نے توڑ دیا ہے،جس کی وجہ سے پانی میانی شہر میں داخل ہوگیا۔

ڈی سی او سرگودھا کے مطابق ہیڈ رسول میں پانی کادباؤ کم ہو گیا ہے اور میانی اور کلیان پور میں نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ادھر تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد آٹھ لاکھ بتیس ہزار کیوسک سے کم ہوکر جمعے کی رات پانچ لاکھ بیس ہزار کیوسک رہ گئی ،جبکہ منگلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے کے بعد تین لاکھ کیوسک کا نیا ریلا سپل وے سے نیچے بہایا جارہا ہے۔

حکومت پنجاب کی طرف سے سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس تین لاکھ روپے امداد جبکہ سروے کے بعد متاثرہ کسانوں کو معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے راجن پور میں امدادی کارروائیوں کیلئے فوج بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ دریائے چناب میں سیلاب کے باعث ملتان کے نواحی علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں سینکڑوں ایکڑ اراضی کے ساتھ ساتھ آم کے باغات بھی زیرآب آگئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ہیں لیکن وہاں کوئی عملہ موجود نہیں ہے جبکہ دیگر علاقوں کے لوگوں نے بھی نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر محکمہ صحت پنجاب میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا ہے، وزیراعلیٰ شہباز شریف کے حکم پر محکمہ صحت کے افسران اور اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
31/07/2010 - 11:52:19 :وقت اشاعت