بند کریں
صحت صحت کی خبریںڈاکٹر عبدالقدیر کی صحت کو تسلی بخش قرار دینے والے حکمران غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، اکرام ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 01/12/2006 - 19:33:16 وقت اشاعت: 01/12/2006 - 14:44:32 وقت اشاعت: 30/11/2006 - 13:24:12 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 20:34:56 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 18:13:26 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 17:45:38 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 15:25:23 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 13:54:09 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 11:52:47 وقت اشاعت: 29/11/2006 - 11:52:47 وقت اشاعت: 28/11/2006 - 14:45:13

ڈاکٹر عبدالقدیر کی صحت کو تسلی بخش قرار دینے والے حکمران غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، اکرام چوہدری

قوم کے محسن کو کراچی میں ہمشیرہ کے گھر رہنے کی اجازت دی جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی صحت ٹھیک نہیں، صحافیوں سے گفتگو

راولپنڈی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین29نومبر2006 ) ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل و ممتاز قانون دان محمد اکرام چوہدری نے کہا ہے کہ ممتاز قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صحت کو تسلی بخش قرار دینے والے حکمران غلط بیانی سے کام لے کر قوم کو طفل تسلیاں دینے کے ساتھ ڈاکٹر قدیر کی زندگی سے کھیل رہے ہیں درحقیقت ڈاکٹر قدیر کی صحت بالکل ٹھیک نہیں ہے اور یہ بات حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے، بہتر اور فوری علاج کیلئے انہیں آغا خان ہسپتال سے علاج اور کراچی میں اپنی ہمشیرہ کے گھر میں رہنے کی سہولت و اجازت دی جائے اور ڈاکٹر قدیر کی مرضی کے ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

ڈاکٹر قدیر خان کی نظربندی اور ایف آئی آر سمیت دیگر معاملات میں ان کے خاندان کے مختلف افراد کی طرف سے دائر رٹ پٹیشنوں کے وکیل محمد اکرام چوہدری نے بدھ کے روز ہائی کورٹ بار راولپنڈی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کے اہل خانہ کی طرف سے ڈاکٹر قدیر کی روز بروز بگڑتی ہوئی صحت کی صورتحال کو منظر پر لانے سے آئی ایس پی آر کے ان بیانات کی مکمل نفی ہوتی ہے جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈاکٹر قدیر کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محسن پاکستان کی بگڑتی ہوئی صحت اور خطرات سے دوچار زندگی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور اس حوالے سے ہم نے پہلے بھی تمام صورتحال سپریم کورٹ کے نوٹس میں لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے عظیم ہیرو ہونے کے باوجود ڈاکٹرقدیر بے بسی اور بے کسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کے علاج اورصحت کے حوالے سے قوم کو طفل تسلیاں دینے کی بجائے ڈاکٹر قدیر کی مرضی کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے ان کی غیر قانونی نظر بندی ختم کر کے مناسب سکیورٹی انتظامات کے اندر انہیں اپنی مرضی سے علاج کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے ڈاکٹر قدیر کے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا کہ ڈاکٹر قدیر کی حالت ٹھیک نہیں ہے ان کی صحت مسلسل گر رہی ہے ان کے جسم پر سوجن میں اضافہ ہو رہا ہے وہ مسلسل پیشاب کی تکلیف میں بھی مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غلط بیانی سے کام لے کر ڈاکٹر قدیر کی زندگی سے کھیل رہی ہے جس وجہ سے ان کی زندگی شدید خطرے میں ہے آج پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو غیر قانونی نظربندی سے آزاد کیا جائے اور ان کے علاج کیلئے انہیں اہل خانہ کے ساتھ رہنے کا موقع دیا جائے۔
29/11/2006 - 17:45:38 :وقت اشاعت