بند کریں
صحت صحت کی خبریںچارسدہ ، دو معصوم پولیو کی بھینٹ چڑھ گئے،پانچ بہن بھائیوں سمیت 10بچے اپاہج

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/02/2013 - 15:57:34 وقت اشاعت: 04/02/2013 - 14:02:06 وقت اشاعت: 04/02/2013 - 13:31:47 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 21:59:42 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 21:57:56 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 18:31:52 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 18:30:03 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 16:21:16 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 16:16:35 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 16:15:46 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 15:30:30

چارسدہ ، دو معصوم پولیو کی بھینٹ چڑھ گئے،پانچ بہن بھائیوں سمیت 10بچے اپاہج

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔3فروری۔ 2013ء) گنبدے میں دو بچے پولیو وائرس کا شکار ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ،پولیو کا شکار پانچ بہن بھائیوں سمیت 10بچے اپاہج بن کر حسرت و یاس کی تصویر بن بیٹھے،حکومت کی مثال ماں باپ جیسی ہے مگر وہ اپنی ذمہ دار ی نہیں نبھا رہی جس کی وجہ سے ہمارے بچے اپاہج ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور محکمہ صحت کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود چارسدہ کے نواحی علاقے گنبدے میں ایک ہی محلے میں 10بچے پولیو وائر س کی وجہ سے اپاہج ہو کر نہ صرف دنیا کے رعنائیوں سے محروم ہو گئے بلکہ والدین اور معاشرے پر بھی بوجھ بن گئے ۔

چارسدہ یونین آف جرنلسٹس کے ٹیم سے بات چیت کر تے ہوئے گنبدے کی رہائشی فضل غنی نے بتایا کہ ان کے پانچ بچے ابوبکر ، میکائل ، رومیساء ، نائلہ اور رشیدہ پولیو وائرس کی وجہ سے اپاہج ہو گئے ۔ غربت کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کا علاج معالجہ نہ کر سکے جس کی وجہ سے دو بچے میکائل اور رشیدہ زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ باقی تین بچے موت و حیات کی کشمکش میں زندگی کے دن گن رہے ہیں ۔

اُنہو ں نے کہاکہ وہ تنگی بازار میں کریانہ کے دوکان پر 100روپے روزینہ پر کام کر تے ہیں جس سے پیٹ کے دوزح کا آگ بھی نہیں بجھتا ۔ بچوں کے علاج معالجے کے حوالے سے ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ بچوں کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ علاج تو دور کی بات ہے ہم تین معذور بچوں کی کفالت اور تیمار داری بھی نہیں کر سکتے ۔ تمام بچے ساری رات تکلیف کی وجہ سے رو کر گزار تے ہیں جس کی وجہ سے ہم بھی ساری ساری رات جاگ کر گزارتے ہیں ۔

اسی محلے کے ایک اور مکان میں مقیم پانچ بہن بھائی سلمان ، زکریا ، سکینہ ، فوزیہ اور ذلیحہ بھی پولیو کی وجہ سے اپاہج بن کر حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔ بچوں کے والد نظام الدین نے بتایا کہ پولیو وائرس کی وجہ سے میری دنیا اُجڑ گئی اور پانچ بچے اس موزی مرض کی وجہ سے ہمارے لئے امتخان کا سبب بن گئے ہیں ۔ اُنہوں نے بتایا کہ وہ پرائی موٹر سائیکل پر بسکٹ اور چنے وغیرہ فروحت کرتے ہیں جس سے اتنی آمدنی ہو تی ہے کہ گھر کا چولہا اکثر اوقات بجھا ہی رہتا ہے ۔

بچوں کے علاج معالجے کے حوالے سے اُنہو ں نے کہا کہ ڈاکٹر وں نے اپریشن کیلئے دولاکھ روپے کا ڈیمانڈ کیا ہے مگر میرے پاس دو سو روپے بھی نہیں ۔ پڑو س ہی میں واقع ایک اور مکان میں بھی بالکل یہی منظر تھا جہاں دو بہن بھائی رابعہ اور سکندر کو بھی پولیو کے موزی مرض نے جھکڑ رکھا تھا اور وہ بھی نہ صرف بنیادی تعلیم سے محروم تھے بلکہ وہ بھی حکومت اور ذمہ دار ریاستی اداروں کو کوستے رہے ۔ پولیو وائرس میں مبتلا بچوں کے والدین نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کی مثال ماں باپ جیسی ہے مگر وہ ہمارے بچوں کے ساتھ سوتیلے والدین سے بھی بد ترسلوک ہو رہا ہے ۔ اُنہو ں نے حکومت ، ریاستی اداروں اور محیر حضرات سے اپیل کی کہ ہمارے بچوں پر رحم کھا کر انسانیت کے ناطے علاج کرایا جائے ۔
03/02/2013 - 18:31:52 :وقت اشاعت