بند کریں
صحت صحت کی خبریںاکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام فیض احمد فیض کی 102ویں سالگرہ پر سیمینار کا انعقاد ،فیض ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/02/2013 - 17:32:20 وقت اشاعت: 15/02/2013 - 17:01:00 وقت اشاعت: 15/02/2013 - 16:23:42 وقت اشاعت: 14/02/2013 - 16:17:23 وقت اشاعت: 13/02/2013 - 23:48:07 وقت اشاعت: 13/02/2013 - 23:48:07 وقت اشاعت: 13/02/2013 - 21:56:13 وقت اشاعت: 13/02/2013 - 21:55:26 وقت اشاعت: 13/02/2013 - 21:41:28 وقت اشاعت: 13/02/2013 - 15:32:06 وقت اشاعت: 13/02/2013 - 13:20:55

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام فیض احمد فیض کی 102ویں سالگرہ پر سیمینار کا انعقاد ،فیض احمد فیض ہمارے ادب کا درخشندہ ستارہ ہے ، انہوں نے اپنی شاعری کے مظلوم طبقات و مظلوم قومیتوں کا علم بلند کیا ،معروف دانشور وشوا

اسلام آبا د(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔13فروری۔ 2013ء)عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر و دانشور فیض احمد فیض کی 102ویں سالگرہ پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور وشوانے کہا ہے کہ فیض احمد فیض ہمارے ادب کا درخشندہ ستارہ ہے ، انہوں نے اپنی شاعری کے مظلوم طبقات و مظلوم قومیتوں کا علم بلند کیا ، پاکستان کے معروف گلوکار مہدی حسن، نورجہاں اور اقبال بالا فخر کرتے ہیں کہ انہیں فیض احمد فیض کی شاعری گانے کا ملی ، جسے گا کر وہ مشہورہوئے ، فیض احمد فیض کی شاعری کو انقلابی نہ کہنا زیادتی ہوگی ۔

بدھ کو اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام فیض احمد فیض کی 102ویں سالگرہ پر سیمینار کا انعقاد کیاگیا ۔ جس کی صدارت معروف سیاستدان و شاعر سینیٹر اعتزاز احسن نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ فیض احمد فیض کی شاعری کو انقلابی نہ کہنا زیادتی ہوگی ۔ فیض کا انقلاب دراصل طبقاتی سماجی انقلاب ہے جبکہ انہوں نے کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ فیض احمد فیض فلسطین کی تحریک آزادی کے زبردست حامی تھے جبکہ پی ایل او کے قائدین انہیں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔

سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ فیض احمد فیض کو اپنے گاؤں ”کالا قادر “سے گہری محبت تھی ، موت سے دو روز قبل فیض احمد فیض گاؤں سے لاہور واپس پہنچے تھے ۔ اقادمی ادبیات پاکستان کے سابق چیئرمین اور معروف شاعر افتخار عارف نے کہا کہ فیض احمد فیض پابلونرودا کے ہم پلہ شاعرتھے ۔ 1936ء میں پہلی پروگریسو رائٹرز کانفرنس میں انہوں نے پنجاب کی نمائندگی کی ۔

فیض احمد فیض کی زندگی میں کوئی ایسی تہمت نہیں جوان پر نہ لگائی گئی ہو لیکن انہوں نے ہمیشہ بردباری کا ثبوت دیا۔ افتخار عارف نے کہا کہ جب تک کوئی شخص اپنی زمین سے نہ جڑا ہوا ہو آفاقی سطح پر محنت کش طبقے کی ترجمانی نہیں کرسکتا ۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ اکادمی ادبیات اسلام آباد کا فیض احمد فیض آڈیٹوریم جلد از جلد مکمل کرائے ۔ بائیں بازو کے دانشور پروفیسر یوسف حسن نے کہا کہ فیض احمد فیض کی شاعری میں مثالی فن کا تصور ملتا ہے ۔

آغا ناصر نے کہا کہ محمد حسن، نور جہاں اور اقبال بانو اس بات پر فخر کرتے تھے کہ انہیں فیض احمدفیض کی کلام گانے کو ملا اور وہ فیض احمد فیض کے کلام گا کر دنیا بھر میں مشہور ہوئے ۔ فیض احمد فیض کی ساری شاعری قومی شاعری ہے ۔ حروف مشاعر ودانشور عطاء الحق قاسمی نے کہا ہے کہ فیض احمد فیض پسے ہوئے لوگوں سے محبت کرتے تھے ۔ فیض کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے تھا مگر انہوں نے شاعری کچی بستیوں میں رہنے والوں کے لئے کی ۔

فیض احمدفیض نے دنیا بھر میں سوشلزم کا سافٹ امیج پیش کیا۔ حفیظ جالندھری سیارہ ڈائجسٹ میں فیض احمد فیض کے خلاف غیر مستند الزامات لگاتے رہے ۔ جبکہ فیض نے کبھی انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ سیمینار سے ڈاکٹر روشاندیم اور چیئرمین اکادمی ادبیات عبدالحمید نے خطاب کیا جبکہ شعراء، ادیبوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی ۔
13/02/2013 - 23:48:07 :وقت اشاعت