اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کی روک تھام کے لئی ہفتہ وار آگاہی مہم جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 نومبر2019ء) ا ینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کی روک تھام کے لئے قومی ادارہ صحت نی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے ملک گیر ہفتہ وار آگاہی (18 تا 24 نومبر) مہم کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ وزارت صحت کے حکام کے مطابق اس سال اینٹی بائیوٹک ہفتہ وار آگاہی مہم کا موضوع " اینٹی بائیوٹکس کا مستقبل ہم سب پر منحصر ہی"۔

ہفتہ وار آگاہی مہم منانے کا مقصد اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھانا اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے عوام ، محکمہ صحت کے متعلقہ افراد اور پالیسی سازوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اس سلسلے میں قومی ادارہ صحت نے پورے ملک میں عوام کی آگاہی کے لیے سیمینارز، ورکشاپس ، واکس، پریس بریفنگز ، ٹاک شوز، بچوں کے لئے پوسٹر مقابلہ منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ معلوماتی پوسٹرز بھی تقسیم کیے ہیں۔

(جاری ہے)

اس حوالے سیقومی ادارہ صحت اور عالمی ادارہ صحت نے واک کا اہتمام کیا جس کا مقصد لوگوں کواینٹی بائیوٹک مزاحمت کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی دینا تھا۔ اس موقع پر یہ بتا یا گیا کہ معالج کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔ واک میں قومی ادارہ صحت کے ملازمین، طبی ماہرین اور طالبعلموں کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ صحت، سی ڈی سی، پبلک ہیلتھ انگلینڈ ، ڈریپ، شفاء انٹرنیشنل ہسپتال ، قومی ادارہ صحت کے ملحقہ اداروں کے افراد کی بڑی تعداد کے ساتھ میڈیا نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قومی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، میجر جنرل پروفیسر عامر اکرام نے کہا کہ بڑھتی ہوئی اینٹی بائیو ٹک مزاحمت دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے جس کے مکمل تدارک کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی وزیر براے صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا بھی اس مسئلہ کو پاکستان کے صحت عامہ کے لیے سنگین تشویش کے طور پر لے رہے ہیں اور اس حوالے سے ٹھوس اقدامات لے رہے ہیں۔

قومی ادارہ صحت نے انسانوں اور جانوروں کے شعبے میں اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے لئے قومی سطح کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم ان اقدامات پر کام کر رہے ہیں جو انسانی صحت ، جانوروں کی صحت کو بہتر بنانے اور بیماری کی روک تھام کے لئے اٹھائے جاسکتے ہیں اور جس سے اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ جب بیماری پھیلانے والے جراثیم (بیکٹیریا) کے خلاف استعمال ہونے والی ادویات غیر موثر ہو جائیں تو اسے اینٹی بائیو ٹک مزاحمت کہتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے مختلف بیماریاں اور انفیکشن دن بہ دن پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رپورٹ ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد ’’اینٹی بائیوٹک مزاحمت‘‘کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں علاج معالجہ کے سلسلے میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا غلط اور بے دریغ استعمال نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور ماحول کے لئے بھی خطرناک صورتِ حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔

Your Thoughts and Comments