سردی میں اضافے کے ساتھ بجلی اورگیس کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ،عوام ذہنی مریض بن گئے ،عدالتی حکم پر سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی سے پریشر خطرناک حد تک کم ہو گیا،بروقت تدبیر نہ کی گئی پورا سسٹم بیٹھ سکتا ہے‘ ایم ڈی،حکومت کی طرف سے بجلی کے شارٹ فال میں کمی کے بلند و بانگ دعوے جاری ،شہری علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14گھنٹے تک پہنچ گیا

سردی میں اضافے کے ساتھ بجلی اورگیس کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ،عوام ..

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری ۔2014ء) ملک بھر میں بجلی کے بعد گیس کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ،ایم ڈی سو ئی گیس عارف حمید نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر راولپنڈی ،اسلام آباد کے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی سے پریشر خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے اور اگر بروقت تدبیر نہ کی گئی پورا سسٹم بیٹھ سکتا ہے ،حکومت کی طرف سے بجلی کے شارٹ فال میں کمی کے بلند و بانگ دعوے جاری ہیں تاہم مختلف شہری علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ،گیس اور بجلی کے شدید بحران کے باعث عوام ذہنی مریض بن گئے ۔

تفصیلات کے مطابق بجلی کے بعد گیس کے شدید ہوتے بحران نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری افراد کو بھی شدید پریشانی سے دوچار کر دیا ہے ۔سردی کی شدت میں مزید اضافے کے بعد گیس غائب ہونے سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور عوام متبادل ذرائع کے استعمال پر مجبور ہو گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

اکثر علاقے گزشتہ کئی روز سے گیس سے محروم ہیں تاہم سوئی گیس کمپنی کی طرف سے اسکے تدارک کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔

خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھاکہ گھریلو صارفین پہلی ترجیح ہیں لیکن تمام وعدوں کی طرح حکومت کا یہ دعویٰ بھی ہوا میں اڑ گیا ہے ۔ایم ڈی سوئی ناردرن عارف حمید نے کہا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سی این جی اسٹیشنز کو عدالتی حکم پر گیس فراہمی کے باعث پریشر خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے اوراگر اس کا بر وقت تدارک نہ کیا گیا پورا سسٹم بیٹھ سکتا ہے ۔

دوسری طرف این ٹی ڈی سی کے اعدادوشمار کے مطابق شارٹ فال میں کمی واقع ہوئی ہے جو کم ہو کر 2ہزار میگا واٹ کی سطح پر آگیا ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ روز کل پیداوار9200میگا واٹ جبکہ طلب 11200میگا واٹ رہی ۔ہائیڈل سے 1350‘تھرمل سے 2050اور آئی پی پیز سے 5800میگا واٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 3ہزار میگا واٹ سے تجاوز کر گیا ہے ۔ مختلف شہری علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 10سے 14گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں دورانیہ 16سے 18پر بر قرار ہے جسکی وجہ سے عوام کی مشکلات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی ہیں۔

Your Thoughts and Comments