پیمرانجی ٹی وی چینلزپردکھائے جانے والے فحاشی وعریانی پرمبنی پروگراموں پرپابندی عائدکرے ، سردارمحمدیوسف ،پاکستان دارالحرب نہیں بلکہ دارالاسلام ہے علماء قیام امن کے لیے کرداراداکریں ، وفاقی وزیرمذہبی اموروبین المذاہب ہم آہنگی ،علماء کی مشاورت سے فرقہ واریت کے خاتمے اورمذہبی ہم آہنگی کے قیام کے لیے ضابطہ اخلاق تیارکرلیا ہے ،تربیت خطباء کورس کے شرکاء سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16 فروری ۔2014ء)وفاقی وزیرمذہبی اموروبین المذاہب ہم آہنگی سردارمحمدیوسف نے کہاہے کہ پیمرا کی ذمے داری ہے کہ وہ نجی ٹی وی چینلزپردکھائے جانے والے فحاشی وعریانی پرمبنی پروگراموں پرپابندی عائدکرے پاکستان دارالحرب نہیں بلکہ دارالاسلام ہے علماء قیام امن کے لیے کرداراداکریں وزارت مذہبی امور نے علماء کی مشاورت سے فرقہ واریت کے خاتمے اورمذہبی ہم آہنگی کے قیام کے لیے ضابطہ اخلاق تیارکرلیا ہے اس حوالے سے ضرورت پڑنے پرقانون سازی بھی کریں گے اس سال بھی سرکاری خرچ پرحج نہیں کرایاجائے گا دینی مدارس کے طلباء کی ڈگریوں کے مسائل پروزارت تعلیم کوآگاہ کروں گا ان خیالا ت کااظہارانہوں نے مجلس صوت الاسلام پاکستان کے زیراہتمام ،،تربیت خطباء کورس ،،کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا واضح رہے کہ مجلس صوت االاسلام کے زیراہتمام کراچی ،کوئٹہ ،پشاوراوراسلام آبادمیں بیک وقت دوسوسے زائدآئمہ مساجدوخطباء کے لیے ایک سالہ تربیتی کورس کرایاجارہاہے دیگرسنٹرزکے شرکاء نے ویڈیولنک کے ذریعے پروگرام میں شرکت کی شرکاء سے معروف عالم دین مولانازاہدالراشدی ودیگرنے بھی خطاب کیا سردارمحمدیوسف نے پروگرام کے آخرمیں شرکاء کے سوالوں کے جوابات بھی دیئے انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ معاشرے کی اصلاح کرناعلماء کی ذمے داری ہے علماء اگراحسن طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دیں توکوئی بھی قوت اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ اورسازش نہیں کرسکتی یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایک اسلامی ملک میں اسلحہ کے سائے تلے مسجدوں میں عبادت کرتے ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان دارالحرب نہیں بلکہ ایک اسلامی ملک ہے یہاں ہرایک کومذہبی آزادی حاصل ہے ہم علماء سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ملک کوامن وامان کاگہوارہ بنانے میں اپنابھرپورکرداراداکریں علماء پرمشتمل امن کمیٹیاں بنائی جائیں گی جوامن وامان کے قیام میں بھرپورکرداراداکریں گی انہوں نے مزیدکہاکہ نجی ٹی وی چینلزپردکھائے جانے والے بعض پروگرمات بے ہودگی اورفحاشی کوفروغ دے رہے ہیں اس حوالے سے ہم نے چیئرمین پیمراکوخط لکھاہے کہ ایسے نازیبا پروگرمات جوہماری تہذیب اوراخلاق کوتباہ کررہے ہیں ان پرپابندی عائدکرے علماء کوبھی ہماراساتھ دیناہوگا علماء کرام منبرومحراب سے فحاشی وعریانی کے خلاف آوازبلندکریں علماء کرام اسلام کے حقیقی ترجمان ہیں سرداریوسف نے کہاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے تشددوفرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ہم نے علما ء کرام سے مشاورت کاسلسلہ شروع کیاہواہے اورضابطہ اخلاق کے متعلق جہاں قانون سازی کی ضرورت ہوگی وہ بھی کریں گے انہوں نے کہاکہ لاؤڈسپیکرکے غلط استعمال اورایک دوسرے کوطعن وتشنیع کانشانہ بنانے سے تشدداوراشتعال میں اضافہ ہوتاہے ہماری کوشش ہے کہ فرقہ وارانہ تشددکاخاتمہ ہوسکے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ گزشتہ سال کی طر ح اس سال بھی کسی کوسرکاری خرچ پرحج نہیں کرایاجائے گا اورہم نے اس سال سرکاری حج سکیم کوایک ہی کٹیگری تک محدودکردیاہے انہوں نے کہاکہ میری بھی خواہش ہے کہ اسلام آبادمیں اوقاف کی مساجدوزارت مذہبی امورکے ماتحت ہوں مگروزارت داخلہ کامئوقف ہے کہ چوں کہ یہ وفاقی دارالحکومت ہے یہاں امن وامان کے حوالے سے انتظامیہ کوعلماء سے براہ راست رابطے میں رہناپڑتاہے اس لیے اسلام آبادمیں اوقاف کی مساجدانتظامیہ کے زیرانتظام ہیں سرداریوسف نے کہاکہ مدارس کے فضلاء کی ڈگریوں کے معاملے پروزارت تعلیم کے حکام سے بات کروں گا مجلس صوت ااالاسلام کے زیراہتمام علماء وخطباء کی تربیت ایک انقلابی اقدام ہے اس طرح کے پروگرمات سے معاشرے میں بہتری آتی ہے ۔

Your Thoughts and Comments