سائنس دانوں نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی حاصل کرلی

سائنس دانوں نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی حاصل کرلی

سٹاک ہوم(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 2جون 2014ء)عالمی سائنس دانوں پر مشتمل ایک ٹیم نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی حاصل کرلی اور انھوں نے ایک ایسا آمیزہ دریافت کیا ہے جس سے مڈل ایسٹ ریسپائیریٹری سینڈروم (مرس) اور سارس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق سویڈن کی گوتھنبرگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایڈورڈ ٹرائی بالا اور یونیورسٹی آف برن سے تعلق رکھنے والے وولکر تھیل کی قیادت میں سائنس دانوں کی ٹیم نے کے 22 نامی آمیزہ دریافت کیا ہے جو مرس اور سارس کے مہلک وائرس کو انسانوں میں پھیلنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کے 22 کا پہلے پہل لیبارٹری میں کورنا وائرس کی کمزور شکل پر تجربہ کیا گیا تھا تو یہ پتا چلا کہ اس میں اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

اس طرح کے مریضوں میں سردی کی طرح کی علامات پائی جاتی ہیں۔ کرونا وائرس سے نظام تنفس متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اس سے متاثرہ مریض کو شدید سردی لگتی ہے۔اس تجربے کے بعد یہ پتا چلا کہ یہ آمیزہ سارس اور مرس کی طرح کے زیادہ خطرناک وائرس کے علاج میں معاون ہوسکتا ہے۔

ان سائنس دانوں نے وضاحت کی ہے کہ انسان کے نظام تنفس سے ملنے والے خلیوں میں یہ وائرس دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔پھر یہ انسانی خلیوں کے مختلف حصوں کو الگ کرنے والے عشات کو متاثر کرتا ہے۔لیکن کے 22 اس سے پہلے کے مرحلے میں کام کرتا ہے اور وہ وائرس کو خلیے کے عشات کا کنٹرول کرنے سے روکتا ہے۔محققین نے لکھا ہے کہ متاثرہ مفعول کے خلیے کے عشات وائرس کے زندگی کے چکر میں اہمیت رکھتے ہیں اور یہیں پر ان کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔یہ ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے انسداد وائرس کی دوا کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔مرس اور سارس وائرس کے حال ہی میں وبائی شکل اختیار کرنے کے پیش نظر کے 22 کے لیبیارٹری سے باہر تجربے اور اس کو دوا کی شکل میں تبدیل کرنے کے لیے فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

Your Thoughts and Comments