آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں خون کی بیماری تھلسیمیا کے خلاف آگاہی کا دن منایا جا رہا ہے

دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال 5 ہزار بچے پیدائشی تھلسیمیا کا شکار ہوتے ہیں ان ننھے بچوں کو بار بار خون کی ضرورت پڑتی ہے

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں خون کی بیماری تھلسیمیا کے خلاف آگاہی کا ..
ساہیوال (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 8 مئی 2021ء،نمائندہ خصوصی،عبدالوھاب خالد) آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں خون کی بیماری تھلسیمیا کے خلاف آگاہی کا دن منایا جا رہا ہے
دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال 5 ہزار بچے پیدائشی تھلسیمیا کا شکار ہوتے ہیں ان ننھے بچوں کو بار بار خون کی ضرورت پڑتی ہے.
سید سعد اللہ شاہد ڈاریکٹر علی زیب فاءونڈیشن نے اردو پوائنٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تھلسیمیا کے مرض میں مبتلا یہ معصوم بچے دل میں جینے کی امنگ رکھتے ہیں لیکن ان کی زندگی محتاج ہے قطرہ قطرہ خون کی رگہو میں چڑھتا خون ان بچوں کی سانسیں بحال رکھتا ہے لیکن اس کے لیے کتنی تکلیفوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ یہ بچے کر سکتے ہیں یا پھر ان کے والدین.


ڈاکٹر اقرا گلزار نے بتایا کہ اس موزی مرض کی وجہ سے سو میں سے پانچ بچے اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں جب کہ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ بچے اس بیماری سے جنگ لڑ رہے ہیں متاثرہ بچوں کے لیے سالانہ 18 لاکھ خون کی بوتلوں کی ضرورت پڑتی ہے طبعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض سے بچنے کے لیے شادی سے قبل تھلسیمیا کے ٹیسٹ لازمی کروائے جائے

(جاری ہے)

Your Thoughts and Comments