بند کریں
صحت صحت کی خبریںمعاشی بحران نے حکمران طبقہ کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا ہے، بلوچستان لیبر فیڈریشن

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/08/2014 - 19:07:16 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 18:27:41 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 17:47:32 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 17:05:31 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 17:05:30 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 16:26:52 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 16:26:52 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 16:26:50 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 15:52:04 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 14:52:47 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 14:30:16

معاشی بحران نے حکمران طبقہ کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا ہے، بلوچستان لیبر فیڈریشن

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28اگست۔2014ء) بلوچستان لیبر فیڈریشنکے چیئرمین خان زمان ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبدالمعروف آزاد اور سیکرٹری نشر و اشاعت عابد بٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں ملک میں سرمایہ دارانہ جمہوریت اور حکمران طبقہ کے تضادات اور موجودہ بحران پر ثابت کرتا ہے کہ سرمایہ داسرانہ سسٹم اور اس کے رکھوالوں کے پاس اب اس استحصالی نظام کو بچانے کا کوئی راستہ نہیں ہے حکمران طبقہ کو چاہیے کہ وہ اقتدار میں ہوں یا دھرنوں کی شکل میں احتجاج پر ہوں ان کا اس استحصالی فرسودہ نظام کو اور فوج کی چھتری تلے اپنے طبقے کے مفادات و سامراجی مفادات کی تکمیل کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں معاشی بحران نے حکمران طبقہ کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا ہے یہ حکمران طبقہ اسی استحصالی فرسودہ نظام میں اصلاحات اور انتخابی اصلاحات اور انقلاب چاہتا ہے جبکہ اس سسٹم میں اب اصلاحات کی گنجائش نہیں ہے اور اس سرمایہ دارانہ جمہوریت میں محنت کش طبقہ اور عوام کو یہ حکمران طبقہ بنیادی ضروریات زندگی پانی بجلی گیس صحت تعلیم و رہائش تک فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے ملک میں بدامنی انتشار عدم تحفظ کی کیفیت ہے اور نہ حکومت اور نہ یہ دھرنوں والے محنت کش طبقے کی بات کررہے ہیں ان کے پاس اگر عوام اور محنت کش طبقہ کا پروگرام نہیں ہے اور یہ اس سسٹم کیخلاف احتجاج نہیں کررہے ہیں یہ سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کی بنیاد ہی محنت کش طبقہ کے استحصال پر ہے ان حوالے سے انتخابات میں اصلاحات ہو بھی جائیں تو کیا عام آدمی انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اسمبلیوں تک پہنچ سکتا ہے جس ملک میں فوج معاشی قوت بھی رکھتی ہو اور ملک کے تمام بڑے بڑے ادارے فوج کے کنٹرول میں چل رہے ہوں اور ان دھرنوں میں یہ مطالبہ کیوں نہیں رکھا گیا کہ ہم سامراجی قرضے ضبط کرینگے ہم غیر ترقیاتی اخراجات اور فوج کے اخراجات میں کمی کرینگے اور ہم تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں قومی طویل میں لیکر محنت کش طبقہ کے جمہوری کنٹرول میں دینگے یہ سرمایہ دارانہ حکمران جمہوریت بنیاد پرستی اور سامراج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جہاں تک کرپشن کا خاتمے کا مطالبہ ہے تو منافع خوری کرپشن اقرباء پروری بدعنوانی اور محنت کش طبقہ کا استحصال سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی عنصر ہیں اور جب تک عوام اور محنت کش طبقہ کو مہنگائی بے روز گاری جہالت طبقاتی غلامی نجکاری تعصب و تنگ نظری سے سامراجیت جاگیرداری سرمایہ داری سے نجت دلانے کا ایجنڈا سامنے نہیں آئیگا کوئی بھی تبدیلی وہ عوام اور محنت کش طبقہ کیلئے نہیں ہوگی بلکہ حکمران طبقہ کے مختلف دھرنوں کی اقتدار کی رسا کشی ہے اور چہروں کی تبدیلی سے انقلاب نہیں آئیگا محنت کش طبقہ اور عوام کیلئے انقلاب اگر کوئی لاسکتا ہے تو وہ محنت کش طبقہ ہے اور اسی طبقاتی سماج کا خاتمہ کئے بغیر اصلاحات کا ایجنڈا حکمران طبقہ اور سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کی کوشش ہے اور اب سامراجی تضادات کی وشنی میں پاکستان کے اس حالیہ بحران اور ان موروں کو دیکھنا چاہیے اور اس سسٹم میں جتنی بھی اصلاحات کردی جائیں یہی جاگیردار سرمایہ دار سردار وڈیرے خان فوجی ریٹائرڈ افسران بنیاد پرست حکمران ٹولے کے حصے ہیں اقتدار میں آئینگے اور اگر محنت کش طبقہ اور عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ بلا رنگ و نسل قوم زبان فرقہ مذہب طبقاتی بنیادوں پر محنت کش طبقہ کی قیادت میں محنت کش طبقہ کو اقتدار پر قبضہ کرنا ہوگا اور ایسا سماج قائم کرنا ہوگا جس میں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال نہ ہو اور یہ نواز شریف کرسکتا ہے نہ عمران خان اور نہ قادری اور نہ سراج الحق اور نہ فضل الرحمان اور نہ محمود خان نہ عبدالمالک اور نہ ہی حاصل بزنجو یہ حکمران طبقہ جس حکمران جمہوریت کی بقاء کی بات کررہے ہیں یہ جمہوریت عوام کیلئے نہیں ہے یہ اس طبقہ کے مفادات کی تکمیل کرتی ہے اور جب یہ سب ناکام ہوتے ہیں تو ریاستی ادارے کی فوج خود آجاتی ہے اور تب بھی ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ محنت کش طبقہ اور عوام کے مفادات کو تحفظ دینے اور مل کو بچانے کیلئے پھر فوج آجائیگی۔

28/08/2014 - 16:26:52 :وقت اشاعت