بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں روزانہ 274 افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک، پانچ ہزار مختلف بیماریوں میں مبتلاء ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/09/2014 - 16:25:56 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 16:25:54 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 15:53:59 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 14:19:50 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 13:38:34 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 13:35:21 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 13:31:51 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 12:51:25 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 11:24:24 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 23:20:06 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 23:04:59

پاکستان میں روزانہ 274 افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک، پانچ ہزار مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہو کر ہسپتالوں میں داخل

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17ستمبر۔2014ء) پاکستان میں روزانہ 274 افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک جبکہ پانچ ہزار افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں، وفاقی حکومت نے فیصل آباد سمیت ملک بھر سگریٹ کی بڑھتی ہوئی غیر قانونی فروخت کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا،حکومت نے پنجاب سمیت میں بھر میں ٹبیکو کنٹرول ایکٹ 2002ء پر مکمل عمل درآمد کے لئے ہدایات جاری کی ہے ، ٹوبیکو کنٹرول ایکٹ 2002ء کے مطابق پبلک مقامات ‘ ٹرانسپورٹس پر اور 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنا منع ہے اور وضع کردہ قوانین کے مطابق کم از کم ایک ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے ، اس سلسلے میں دکانداروں کو امتناع تمباکو نوشی قوانین سے آگاہ کرکے انہیں خرید و فروخت کا باقاعدہ لائسنس جاری کیا جائے جبکہ گٹکا کی فروخت پر فوری دفعہ 144 عائد کی جارہی ہے لہذا انسانی جانوں کے لئے خطرناک اس دھندہ میں مصروف عناصر سے کوئی رعایت نہ برتی جائے اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔

17ستمبر۔2014ء کے مطابق گذشتہ روزڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل کی صدرات میں تمباکو نوشی کی روک تھام سے متعلق ضلعی عملدرآمد اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنرز ‘ پراجیکٹ کوارڈی نیٹر ٹیبکو کنٹرول سیل کے علاوہ محکمہ صحت ‘ پولیس ‘ٹریفک پولیس ‘ ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر محمد رضا و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی ۔

ڈی سی او نے کہا کہ 300 میٹر کی حدود میں سگریٹ فروخت کرنے والے صرف ایک دکاندار کو لائسنس جاری کیا جائے جبکہ تعلیمی اداروں سمیت دیگر عوامی مقامات کی 50 میٹر حدود میں تمباکو نوشی کی فروخت پر پابندی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ انسداد تمباکو نوشی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ عوام الناس اور سرکاری اداروں میں سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنے اور اس کے انسانی صحت پر خطرناک اثرات سے متعلق موثر آگہی پیدا کی جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں میں پبلک مقامات اور ٹرانسپورٹس میں سگریٹ نوشی کی ممانعت سے متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کرانے کا احساس پیدا کریں جبکہ سگریٹ نوشی کے نقصانات اور مضر صحت اثرات سے متعلق تحریروں پر مبنی سٹکرز نمایاں مقامات اور ڈی سی او آفس سمیت تمام دفاتر میں چسپاں جبکہ مختلف کمپنیوں کے اشتہاری بورڈز پر بھی تمباکو نوشی سے پرہیز بارے تحریریں درج کرائی جائیں

17/09/2014 - 13:35:21 :وقت اشاعت