بند کریں
صحت صحت کی خبریںکراچی، روٹین ایمونائزیشن کی شرح میں اضافہ و انسداد پولیو کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/09/2014 - 20:52:32 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 19:28:34 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 17:45:12 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 17:45:12 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 16:28:31 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 16:26:13 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 16:21:38 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 16:19:19 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 16:03:36 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 16:00:42 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 14:45:47

کراچی، روٹین ایمونائزیشن کی شرح میں اضافہ و انسداد پولیو کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23ستمبر۔2014ء)روٹین ایمونائزیشن کی شرح میں کمی کی صورت میں متعلقہ ڈسٹرکٹ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران ذمہ دار ہوں گے اور ان سے سخت بازپرس کی جائیگی ۔ یہ بات صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے منگل کو روٹین ایمونائزیشن کی شرح میں اضافہ و انسداد پولیو کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کہی ۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا پیچوہو ‘ بیگم شہناز وزیر علی بھی موجود تھیں ۔

صوبائی وزیر صحت نے سندھ کے تمام ڈسٹرکٹس میں روٹین ایمونائزیشن کی موجودہ صورتحال کا انفرادی طور پر جائزہ لیا اور جن ڈسٹرکٹس میں روٹین ایمونائزیشن کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے ان ڈسٹرکٹس کے ڈی ایچ اوز صاحبان سے سخت بازپرس بھی کی گئی ۔انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے میں دشواریوں کا سامنا ہے ان علاقوں میں عوامی نمائندگان و دیگر معززین کے ہمراہ عوامی آگاہی کے لئے خصوصی مہم کا آغاز کیاجائے تاکہ آنے والی نسل کو نہ صرف پولیو بلکہ دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ بنایا جاسکے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو اس سلسلے میں اپنا مزید کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر پولیو کی اوور سائٹ کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ جن ڈسٹرکٹس میں روٹین ایمونائزیشن کے حوالے سے کارکردگی میں کمی دیکھنے میں آئی ‘ اس ڈسٹرکٹ کے ڈی ایچ او کی اے سی آر میں اس افسر کی خراب کارکردگی کو درج کیا جائے گا اور اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ سے پولیو و دیگر بیماریوں کا خاتمہ اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔اس موقع پر صوبائی وزیر صحت نے ہدایات جاری کی کہ جن علاقوں میں ویکسین کو محفوظ بنانے کے لئے کولڈ چین برقرار رکھنے کے لئے مشکلات کا سامنا ہے وہ فوری طور پر ای پی آئی سے رابطہ کرکے اس کو درست کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ویکسینیٹرز کو مکمل طور پر فعال کیاجائے اور کوتاہی کے مرتکب ہر شخص کے خلاف بلا تفریق محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

اس موقع پر سیکریٹری صحت اقبال حسین درانی ‘ پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر مظہر خمیسانی ‘ عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر صالح تماش ‘ یونیسیف کے جان مارکوس ‘ روٹری انٹرنیشنل کے عزیز میمن ‘ کمشنر و ڈپٹی کمشنر صاحبان اور سندھ کے تمام اضلاع کے ڈی ایچ اوز موجود تھے ۔

23/09/2014 - 16:26:13 :وقت اشاعت