بند کریں
صحت صحت کی خبریںمغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے 70 فیصد افراد ہلاک ہو گئے ہیں، عالمی ادارہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/09/2014 - 16:20:32 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 16:09:16 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 14:26:39 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 13:51:57 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 13:16:50 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 12:36:23 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 12:34:29 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 12:27:34 وقت اشاعت: 24/09/2014 - 12:25:24 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 22:52:36 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 20:52:32

مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے 70 فیصد افراد ہلاک ہو گئے ہیں، عالمی ادارہ صحت

نیو یا رک (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24ستمبر۔2014ء)عالمی ادارہ صحت کے مطابق مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے 70 فیصد افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ اندازوں سے زیادہ ہے ،ڈبلیو ایچ او یعنی عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاوٴ کو روکنے کے لیے مزید اقدامات نہیں کیے گئے تو رواں سال نومبر تک متاثرین کی تعداد 20 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سینیگال اور نائجیریا میں وائرس کو کسی حد تک پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2800 ہو گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے نئے ممکنہ اعداد و شمار نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئے ہیں اور اس میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ نومبر تک ایبولا کیسز کی تعداد 20 ہزار کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

متاثرہ افراد کے معائنے سے ثابت ہوتا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 70 فیصد کی موقت واقع ہو گئی جبکہ اس سے پہلے یہ اندازہ 50 فیصد تھا۔ڈبلیو ایچ او کے سینئر اہلکار ڈاکٹر کرسٹوفر ڈائے کے مطابق’ اگر وائرس کو روکنے کے اقدامات میں بہتری نہیں لائی گی تو ان تین ممالک میں ہر ہفتے ہزاروں نئے کیسز اور ہلاکتوں کی اطلاعات ملیں گی اور یہ پیشنگوئی بیماریوں سے بچاوٴ اور روک تھام کے ادارے ’سی ڈی سی‘ کے جائزے کے مطابق ہیں۔

‘سی ڈی سی کے مطابق صرف لائبیریا اور سیرالیون میں رواں ماہ کے اختتام تک متاثرین کی تعداد 21 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔صحت سے متعلق امریکی ایجنسی کے مطابق اگر وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات کو تیز نہیں کیا گیا تو آئندہ سال جنوری تک متاثرین کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے اہلکار کہہ چکے ہیں کہ ایبولا کا اس قدر تیزی سے پھیلاوٴ صحت عامہ کا ایسا چیلنج ہے ’دور حاضر میں جس کی مثال نظر نہیں آتی۔

‘اقوام متحدہ کے ایبولا کے خلاف مہم کے رابطہ کار کے مطابق صرف گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایبولا کے پھیلاوٴ کو روکنے کے لیے درکار رقم میں دس گنا کا اضافہ ہو چکا ہے۔ایبولا کا وائرس فروری میں گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک وہ لائبیریا، سیرالیون اور نائجیریا تک پھیل چکا ہے۔طبی خیراتی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پر قابو پانے میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔صحت کے عالمی ادارے کے مطابق اس وائرس کی روک تھام میں ایک چیلینج یہ ہے کہ جو علاقے ایبولا سے متاثر ہیں وہ ’انتہائی غربت، غیر فعال صحت کے نظام، ڈاکٹروں کی قلت اور شدید خوف‘ کا بھی شکار ہیں

24/09/2014 - 12:36:23 :وقت اشاعت