بند کریں
صحت صحت کی خبریںتین روزہ قومی انسداد پولیو مہم 29ستمبر سے شروع ہو گی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 26/09/2014 - 21:22:25 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 18:56:26 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 18:53:08 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 17:54:59 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 16:37:22 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 16:21:43 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 16:02:38 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 16:01:22 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 16:01:22 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 15:31:14 وقت اشاعت: 26/09/2014 - 15:23:49

تین روزہ قومی انسداد پولیو مہم 29ستمبر سے شروع ہو گی

سرگودہا(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26ستمبر۔2014ء)تین روزہ قومی انسداد پولیو مہم 29ستمبر سے یکم اکتوبر تک جاری رہے گی ضلع سرگودہا میں اس پولیو مہم کے دوران پانچ لاکھ 62ہزار 154پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا ۔ اس مہم کے دوران ضلع بھر کی 167یونین کونسل کیلئے 1408ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جن میں سے 1140موبائل ٹیمیں ، 191فکس اور 77ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں ۔

اس امر کا انکشاف آج ضلعی انسداد پولیو کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس کی صدارت ڈی سی او سرگودہا ثاقب منان کر رہے تھے ۔ اجلاس میں ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر نذیر عاقب نیکو کارہ ، ای ڈی او ایجوکیشن ملک ظفر عباس ریحان اور دیگر متعلقہ محکموں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ڈی سی او نے کہاکہ پولیو ایک عالمی مسئلہ کی صورت اختیا ر کر چکا ہے ۔

اس مسئلہ پر قابو پانے کیلئے سنجیدگی کی ضرورت ہے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیس ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں جو پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے اگر اس پر کنٹرول نہ ہوا تو عالمی طور پر ملک پر عائد پابندیاں مزید سخت ہو جائیں گی اور ہمار ابیرونی ممالک سے رابطہ محدود ہوتا چلا جائے گا۔ڈی سی او نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ڈونرز اداروں کے تعاون سے پاکستان کیلئے پولیو کے خاتمے کیلئے شاید یہ آخری یا ایک اور راؤ نڈ ہو گا ۔

بین الاقوامی ادارے ہمارے ملک کے ساتھ پولیو کے سلسلہ میں تعاون کرنا فنڈز ضائع کرنے کے برابر سمجھتے ہیں ۔ ملک میں سال ہا سال سے پولیو کے خلاف مہم کے باوجود پولیو کا خاتمہ نہیں ہو ا اسی طرح ملک میں پولیو ٹیموں پر حملے اور عدم تعاون سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ پولیو کی وجہ سے ہمارے لو گوں کے بیرونی ممالک جانے میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیو مہم کو قومی فریضہ سمجھ کر ادا کیا جائے کیونکہ اگر ہم اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو بین الاقوامی سیاسی اور معاشی صورتحال کے تناظر میں ہم تنہا ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لئے محکمہ صحت اور دیگر اداروں کو پولیو کے خلاف مہم کی بھر پور کامیابی کیلئے کو ئی کسر اٹھا نہیں رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے پولیو مہم کی کا میابی کیلئے علمائے کرام ، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور اس سلسلے میں مزید محنت اور سنجیدگی کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں ٹریفک پولیس کو ٹرانسپورٹ ٹیموں کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہے۔

26/09/2014 - 16:21:43 :وقت اشاعت