بند کریں
صحت صحت کی خبریںامریکہ میں ایبولا کا پہلا مریض چل بسا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/10/2014 - 18:55:00 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 16:39:45 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 16:13:31 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 14:34:20 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 14:22:35 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 14:14:30 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 14:04:12 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 13:07:25 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 13:04:26 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 13:01:01 وقت اشاعت: 09/10/2014 - 12:58:41

امریکہ میں ایبولا کا پہلا مریض چل بسا

ٹیکساس(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9 اکتوبر۔2014ء)امریکہ میں ایبولا وائرس کا شکار ہونے والا پہلا شخص امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں ایک ہسپتال میں چل بسا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تھامس ایرک ڈنکن جن کی عمر 42 سال ہے اور انہیں لائبیریا میں یہ مرض لاحق ہو اور ان کا علاج تجرباتی دوائیوں سے کیا جا رہا تھا۔اس سے قبل امریکی حکومت نے ملک میں داخلے کے مقامات پر ایبولا کے مریضوں کی علامات دیکھنے کے لیے نئے سکریننگ کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

اس مہلک مرض کے نتیجے میں 3865 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت لائبیریا، سیئیرالیون اور گنی سے ہے۔ہسپتال کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’بہت دکھ اور دلی مایوسی کے ساتھ ہم یہ اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ تھامس ایرک ڈنکن آج صبح 7 بج کر 51 منٹ ہر وفات پا گئے۔‘امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اس کچھ دیر قبل تمام ممالک سے درخواست کی کہ وہ اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کریں۔

امریکہ نے اپنے 4000 فوجی خطے میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانیہ 750 فوجی اہلکار سیئیرالیون بھجوا رہا ہے۔ڈنکن جو ایک کوریئر کمپنی کے لیے ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے کو 30 ستمبر کو اس مرض کے ٹیسٹ مثبت آنے پر ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جو لائبیریا کے دارالحکومت منروویا سے براسطہ برسلز امریکہ پہنچے تھے۔وہ امریکہ پہنچنے کے کچھ دن بعد بیمار پڑ گئے تھے اور ہسپتال کے عملے نے اْن کے یہ بتانے کے باوجود کہ وہ لائبیریا سے حال ہی میں واپس آئے ہیں انہیں اینٹی بائیوٹک دوائیں دے کر گھر بھجوا دیا گیا۔

چار دن انہیں علیحدہ ایک جگہ رکھا گیا مگر ان کی حالت بگڑتی گئی اور اس ہفتے انہیں تجرباتی دوا دی گئی۔وہ دس افراد جن کے ساتھ ان کا رابطہ تھا یا جن کے ساتھ وہ ملے تھے ان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔امریکہ میں پہلے کیس کے سامنے آنے کے بعد یورپ میں پہلا کیس سپین کی ایک نرس کی صورت میں سامنے آیا جنہوں نے ایبولا کے مریضوں کی دیکھ بھال کی تھی۔

09/10/2014 - 14:14:30 :وقت اشاعت