بند کریں
صحت صحت کی خبریںایبولا بحران‘ تنظیم افریقہ میں ایبولا سے بروقت نمٹنے میں ناکام رہی ہے،عالمی ادارہ صحت

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/10/2014 - 14:34:59 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 14:23:39 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 14:17:12 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 14:03:49 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 13:56:20 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 13:46:35 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 12:51:57 وقت اشاعت: 18/10/2014 - 12:08:59 وقت اشاعت: 17/10/2014 - 23:09:17 وقت اشاعت: 17/10/2014 - 22:05:42 وقت اشاعت: 17/10/2014 - 21:54:34

ایبولا بحران‘ تنظیم افریقہ میں ایبولا سے بروقت نمٹنے میں ناکام رہی ہے،عالمی ادارہ صحت

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18 اکتوبر۔2014ء)عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم افریقہ میں ایبولا سے بروقت نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں اس ناکامی کی وجہ خراب ترسیل اور عملے کی نااہلی کو قرار دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں شامل افراد نوشتہ دیوار پڑھنے میں ناکام رہے۔

ڈبلیو ایچ او کے قریبی ذرائع نے بلوم برگ کو بتایا کہ ایبولا کے پھیلاوٴ کے ابتدائی مراحل میں مختلف ناکامیاں رہیں۔عالمی ارارہ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایلبولا پر قابو پانے میں ناکامی کے حوالے سے تفتیش کا وقت آ گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی گلوبل رسپانس ہیڈ ایزابیل نوٹال کا کہنا ہے کہ اس وقت تک یہ بیماری مغربی افریقہ میں عام نہیں تھی اور صرف وسطی افریقہ میں تھی۔

اس رپورٹ میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا ہے اور جن تک اے پی اور بلومبرگ کی رسائی ہو سکی ہے ان میں: ڈبلیو ایچ او کے ماہرین جو فیلڈ میں تھے وہ جنیوا میں ادارے کے ہیڈکوارٹر کو اپنی رپورٹ بروقت بھیجنے میں ناکام رہے۔ دفتر شاہی کی وجہ سے گنی میں اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے لیے پانچ لاکھ ڈالر پہنچانے میں ناکام رہی۔ ڈاکٹروں کو ویزا کے سبب وہاں تک رسائی نہیں مل سکی شامل ہیں۔

ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی گلوبل رسپانس ہیڈ ایزابیل نوٹال نے بی بی سی کو بتایا: ’تفتیش کا وقت آئے گا۔ فی الوقت ہمیں ان مسائل کے تدارک پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔جنیوا میں موجود بی بی سی کے نمائندے کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات نئے نہیں ہیں لیکن یہ دستاویزات ادارے میں معلومات کے تبادلے کی کمی کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ بھی ان حالات میں جب ایبولا کی وبا گاوٴں سے نکل کر اب شہروں میں پھیل رہی ہے۔

بروقت اقدام کرنے میں ناکامی پر انھوں نے کہا اس وقت تک یہ بیماری مغربی افریقہ میں عام نہیں تھی اور صرف وسطی افریقہ میں تھی۔انھوں نے کہا: ’جب ہم نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جون کے بعد سے اس نے دوسرا رخ اختیار کر لیا۔’ہم نے کہا کہ یہ وبا مختلف ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے اسے پرزور طریقے سے نہیں کہا کہ دنیا اسے سمجھ سکتی جیسا کہ اب ہم بین الاقوامی برادری کو اس کے خلاف متحد کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان نے بلومبرگ کو بتایا تھا کہ انھیں اس بیماری کے شروع ہونے اور پھیلاوٴ کے بارے پوری طرح سے مطلع نہیں کیا گیا اور یہ کہ اس کے لیے کیے جانے والے اقدامات اس کے برابر اور مطابق نہیں تھے۔مغربی افریقہ میں اس وائرس کے آنے کے بعد کھانے پینے کی اشیا کے داموں میں اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ نے ایبولا سے سب سے متاثر ممالک میں سے ایک سیرا لون میں غذائی اشیاء کی تقسیم شروع کی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایبولا سے اب تک 4,546 افراد ہلاک جبکہ نو ہزار سے زیادہ اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

18/10/2014 - 13:46:35 :وقت اشاعت