بند کریں
صحت صحت کی خبریں26اکتوبر کو ملین مارچ کی کال پر بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں‘جبار احمد منہاس ایڈووکیٹ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/10/2014 - 15:58:48 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 15:53:00 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 15:31:54 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 13:48:54 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 13:34:27 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 13:19:43 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 13:04:01 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 12:45:17 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 12:41:22 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 12:40:15 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 12:38:51

26اکتوبر کو ملین مارچ کی کال پر بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں‘جبار احمد منہاس ایڈووکیٹ

میرپور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22 اکتوبر۔2014ء) آزاد کشمیر کی سیاسی و سماجی شخصیت جبار احمد منہاس ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ملین مارچ کی کال پر بھارت کی طرف شور شرابا اور احتجاج اس بات کی گواہی ہے کہ بھارت کی نیند حرام ہو چکی ہے ۔ کشمیریوں کے قائد بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی طرف سے بروقت ملین مارچ کی کال سے تحریک آزاد ی کشمیر دوبارہ زندہ ہو چکی ہے پاکستان کی گزشتہ حکومتوں نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال رکھا تھا اور مسئلہ کشمیر سے مکمل غیر اعلانیہ لاتعلق ہو چکی تھیں اور کشمیر کو قربان کر کے بھارت کے ساتھ دوستی بڑھائی جا رہی تھی ۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سمیت تمام دیگر قائدین کشمیر اور شرکت کرنے والے تمام شرکاء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ 26اکتوبر کو دنیا بھر میں آباد کشمیری اپنے پیدائشی حق کیلئے برطانیہ کے شہر لندن میں تاریخی مارچ کر کے تحریک آزادی کشمیر کیلئے دوبارہ جدوجہد کا عہد کریں گے اور برطانوی حکومت سے بھی مطالبہ کیا جائیگا کہ جس طرح فلسطین کیلئے برطانوی پارلیمنٹ نے تاریخی فیصلہ کیا ہے اسی طرح کشمیر کی آزادی کیلئے برطانوی پارلیمنٹ اپنا کردار اد اکرئیگی ۔

برطانیہ پر کشمیریوں کا قرض ہے کیوں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا برطانیہ کی ہی ذمہ داری تھی ۔ انڈین حکومت ملین مارچ کی تیاریوں سے ہی خوفزادہ ہو چکی ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوارج برطانوی نائب وزیراعظم سے درخواست کر چکی ہیں کہ ملین مارچ پر پابندی لگائیں اور ملین مارچ کو ناکام بنانے کے لئے سمشا سوراج برطانیہ پر ہنگامی دورہ کر رہی ہیں مگر اب کشمیریوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ حق خود ارادیت کیلئے دنیا بھر میں لانگ مارچ منعقد کریں گے ۔

اور اس سلسلہ کو جاری رکھنے کیلئے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے 27اکتوبر کو یورپی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور 29اکتوبر کو پیرس کے مقام پر احتجاجی مارچ منعقد ہو گا۔ کشمیریوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ بھارت کی مکارانہ سوچ کو پوری دنیا میں بے نقاب کیاجائے ملین مارچ کی کال بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے دی ہوئی ہے اور بیرسٹر سلطان آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم ہیں اور کشمیریوں کے لیڈر ہیں بھارت کی طرف سے ملین مارچ کو پاکستانی گروپ کی طرف سے کہنا غلط اور بے بنیاد ہے کشمیریوں نے ہمیشہ حق خود ارادیت کیلئے خود جدوجہد کی ہے پاکستانی کی اخلاقی ہمدردی فطری جذبہ ہے ۔

ملین مارچ میں حریت کانفرنس اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر تمام قائدین کی حمایت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ یاسین ملک ، علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق سمیت تمام آزادی پسند قائدین کی حمایت حاصل ہے ۔ جبکہ آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کر رکھا ہے اور برطانیہ امریکہ اور یورپ میں آباد تمام کشمیری گروپوں نے حمایت کا اعلان کر رکھا ہے اور دنیا بھر کے تمام آزاد پسند کشمیری ملین مارچ مین شرکت کرینگے اور حق خود ارادیت کیلئے اقوام متحدہ کی پاس کردہ قرار داد پر عمل کرانے کیلئے ملین مارچ اہم کردار ادا کرئے گا۔

کشمیر کی آزادی کیلئے کشمیری ایک ہو چکی ہیں۔ ان خیالات کااظہار آزاد کشمیر کی سیاسی و سماجی شخصیت جبار احمد منہاس ایڈووکیٹ قومی نمائندگان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک مکار ملک ہے اور دنیا کے اندر سپر طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے اور سپر طاقت حامل کر کے پاکستان کے خلاف بڑی سازش کرنا چاہتا ہے ۔ مگر پاکستان نظریہ کی پیداوار ہے ۔

پاکستان ایک حقیقی ملک ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بھارت کا اس وقت وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے جس نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا ہوا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم مسلمانوں کا قاتل ہے اور بھارتی عسکری اداروں نے مودی کو وزیراعظم منوایا ہے تاکہ وہ کشمیریوں کا قتل عام کراسکے ۔ مودی کا وزیراعظم منتخب ہونا بھارت کیلئے انشاء اللہ تباہی ثابت ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں جبار احمد منہاس ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملین مارچ کشمیریوں مشترکہ فیصلہ ہے اور بھارت کی طرف سے کشمیریوں کو پاکستانی گروپ کہنا یہ بھارت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے اور سمشا سوارج کی طرف سے برطانیہ کے اندر ملین مارچ کو ناکام بنانے کیلئے جو کوشش کر ہی ہے وہ اس میں ناکام ہو گی اب دنیا بھر میں ملین مارچ ہو نگے سمشا سوراج اور بھارتی حکومت کو کشمیری ٹف ٹائم دیں گئے ۔

سفارتی سطح پر کشمیری خود جنگ لڑیں گئے ۔ کہوں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیر کاز پر نرم پڑ چکی ہے اور یہ نرمی آج کی نہیں بلکہ گزشتہ چند حکومتوں کی نرم پالیسی ہے کیوں کہ پاکستانی سفارت خانے دنیا بھر میں کہیں بھی کشمیر کاز کیلئے کام نہیں کر رہے ۔البتہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کشمیر کاز کیلئے بہت زیادہ کام ہوا تھا اس کے بعد وہ اس طرح کی جرات کا مظاہرہ کسی بھی پاکستانی لیڈر نے نہیں کیا۔

22/10/2014 - 13:19:43 :وقت اشاعت