عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بلوچستان میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ باعث تشویش ہے جان محمد بلیدی

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 27نومبر 2014ء) وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بلوچستان میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ باعث تشویش ہے ایسے فیصلوں سے معاشرے کو اپائج بنانے والوں کے عزائم کو تقویت حاصل ہوگی حکومت بلوچستان صوبہ کے عوام کو صحت کی سہولتیں باہم پہنچانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروکار لائے گی ان خیالات کا اظہار گزشتہ دنوں پولیو ورکرز پر حملہ اور انسانی جانوں کے ضیاع افسوسناک عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اس واقعہ سے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کو پولیو فری بننانے کی مہم کو جس جذبے سے ہم نے شروع کیا تھا اس پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے انتہائی موثر انداز میں اپنی پالیسیوں پر گامزن ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بچوں کو معذوری سے بچانے والوں پر ہی حملہ کیا گیا واقع کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے فوری طورپر اجلاس طلب کئے اور معاملات کا ہر پہلوؤں سے لیا موجودہ صوبائی حکومت پولیو کے خاتمہ میں اتنی سنجیدہ ہے جتنی کے عالمی دنیا اس مرض کے خلاف جنگی بنیادوں پر کام کررہی ہے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بلوچستان میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنے سے متعلق جو بیان سامنے آیا ہے وہ باعث تشویش ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلوں سے ان عناصر کو تقویت حاصل ہوگئی جو پولیو مہم میں رکاوٹیں حائل کرکے معاشرے کو اپاہج بنانا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کا م ورال کم ہوگا جوپولیو کے خلاف جنگ میں اپنا ہر ممکن کردار ادا کررہی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈبلیو ایچ او ہمارے ساتھ تعاون میں ہے تاہم اس مہم میں ڈبلیو ایچ او کی اتنی حصے داری نہیں جتنی کے ہماری ہے موجودہ حکومت میں شامل تمام جماعتیں پولیو کے خاتمے کیلئے ایک پیج پرہیں اور ہم اپنی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ پولیو کے خلاف جنگ میں اگر بین الاقوامی ادارے ہمارے ساتھ نہیں بھی دیں گے تو ہم بلوچستان میں پولیو کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے ترجمان نے عالمی ادارہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اس موذی مرض کے خلاف ججنگ میں بھرپور کردار ادا کرے تاکہ اس موذی مرض پر قابو پاکر دہشت گرد عناصر کے عزائم کو خاک میں ملایا جاسکے۔

Your Thoughts and Comments