بند کریں
صحت صحت کی خبریں ملک بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تقرریوں کا عمل مکمل کرکے تیس روز میں رپورٹ پیش کی جا ئے،سپریم ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/11/2014 - 16:27:05 وقت اشاعت: 29/11/2014 - 14:10:38 وقت اشاعت: 29/11/2014 - 13:21:35 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 23:38:17 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 23:37:22 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 23:32:34 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 23:12:34 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 23:09:51 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 22:44:09 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 22:37:53 وقت اشاعت: 28/11/2014 - 22:33:35

ملک بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تقرریوں کا عمل مکمل کرکے تیس روز میں رپورٹ پیش کی جا ئے،سپریم کورٹ،

لیڈی ہیلتھ ورکرز ”ان دی لائن آف فائر“ پر ہیں اور کسی کو اس کا احساس تک نہیں‘ صوبائی حکومتیں ملازمتیں دے کر احسان نہیں کررہیں‘ ضدی خچر کی طرح کھینچ کھینچ کر اپنے حکم پر عملدرآمد کروارہے ہیں‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28نومبر 2014ء) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تقرریوں کا عمل مکمل کرکے تیس روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز ”ان دی لائن آف فائر“ پر ہیں اور کسی کو اس کا احساس تک نہیں‘ پولیو مہم کے دوران 42 شہید ہوچکیں جبکہ 4 کو دو روز قبل شہید کیا گیا‘ صوبائی حکومتیں ملازمتیں دے کر احسان نہیں کررہیں‘ ضدی خچر کی طرح کھینچ کھینچ کر اپنے حکم پر عملدرآمد کروارہے ہیں‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جب تک انہیں سکیورٹی نہیں ملے گی یہ کام کیسے کریں گی۔

انہوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روز بشریٰ آرائیں نامی خاتون کی درخواست پر دئیے جس کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ اس دوران سندھ اور بلوچستان حکومتوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے تقررنامے جاری کرنے سے متعلق بیان حلفی جمع کرائے جس میں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ حکومتوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے تقرر نامے جاری کرتے ہوئے ان کے گھروں تک پہنچادئیے ہیں۔

اب اس حوالے سے مزید کسی چیز کی گنجائش نہیں رہتی۔ درخواست گزار بشریٰ آرائیں نے عدالت کو بتایا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو سکیورٹی نہیں دی جارہی۔ حکومتیں ان سے ایسے برتاؤ کررہی ہیں جیسے وہ انسان نہیں روبوٹ ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز پولیو مہم میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں اس کے باوجود کہ انہیں شہید کیا جارہا ہے تب بھی وہ اپنے فرائض ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔

صوبائی حکومتیں ٹس سے مس نہیں ہورہیں۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ضدی خچر کھینچ کھینچ کر اپنے احکامات پر عملدرآمد کروارہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ پولیو مہم کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز کو شہید کیا گیا اور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے۔ دو روز قبل کوئٹہ میں بھی چار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو شہید کردیا گیا۔ صوبائی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ وہ ملازمتیں دے کر احسان کررہی ہیں۔ حکومتوں کا ایسا کوئی احسان نہیں ہے۔ روزگار کی فراہمی میں مدد دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو سکیورٹی دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 روز کیلئے ملتوی کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تقرریوں کا عمل مکمل کرکے سپریم کورٹ

28/11/2014 - 23:32:34 :وقت اشاعت