بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں فالج سے متاثر ہونے والے مریضوں کے علاج کیلئے لاہور جنرل ہسپتال میں پہلا سٹروک ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/12/2014 - 22:30:35 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 22:27:27 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 21:31:02 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 21:22:38 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 20:31:27 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 17:43:39 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 16:51:47 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 16:08:13 وقت اشاعت: 22/12/2014 - 15:49:08 وقت اشاعت: 21/12/2014 - 18:05:04 وقت اشاعت: 21/12/2014 - 18:02:06

پاکستان میں فالج سے متاثر ہونے والے مریضوں کے علاج کیلئے لاہور جنرل ہسپتال میں پہلا سٹروک سنٹر قائم

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 دسمبر 2014ء ) وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت اور پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر انجم حبیب وہرہ کی ذاتی دلچسپی سے پاکستان میں فالج سے متاثر ہونے والے مریضوں کے علاج کے لیے لاہور جنرل ہسپتال میں پہلا سٹروک سنٹر قائم کردیا گیا۔ جو فالج اٹیک کے بعد آٹھ گھنٹے کے اندر ہسپتال پہنچ جانے والے مریضوں کی جان بچانے یا انہیں معذوری سے بچانے میں معاون ثابت ہوگا۔

اس امر کا اظہار نیورو ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر عمیر رشید چوہدری نے ہسپتال میں منعقدہ فالج سے متعلق سات روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مصر سے آئے ہوئے ڈاکٹر اسامہ، دبئی سے ڈاکٹر حسنین حیدر ، ڈاکٹر شہزاد بھٹی، میجر (ر) ڈاکٹر جہانزیب لیاقت، ڈاکٹر صائمہ، ڈاکٹر الطاف اور دیگر ماہرین بھی موجود تھے۔

صحافیوں سے گفتگو میں ڈاکٹر عمیر رشید نے بتایا کہ جنرل ہسپتال میں فالج کے علاج کے لیے سٹروک سنٹر کے قیام کے بعد گذشتہ دو روز کے اندر دو مریضوں کا کامیاب علاج کیا جاچکا ہے جو تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں۔ڈاکٹر عمیر چوہدری نے بتایا کہ وزیراعلی پنجاب کی جانب سے جنرل ہسپتال میں سٹیٹ آف دی آرٹ انجیوگرافی و سٹروک سنٹر کے قیام کے بعد ہی فالج کا یہ علاج ممکن ہوسکا ہے تاہم مہنگا علاج ہونے کے باعث حکومت، بیت المال اور مخیر حضرات کی جانب سے بہت زیادہ مالی تعاون کی ضرورت ہے کیوں فالج سے متاثرہ ایک مریض کے علاج پر پچاس ہزار روپے سے اڑھائی لاکھ روپے تک خرچ اٹھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سات روزہ ورکشاپ میں مصر اور یو اے ای کے ماہر ڈاکٹروں کی شرکت کے باعث بین الاقوامی و پاکستانی ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں فالج سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ اگر مریض کو اٹیک کے بعد 8گھنٹے کے اندر ہسپتال پہنچادیا جائے تو اس کی زندگی اور اسے معذور ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ انہیں ایل جی ایچ کے ماہرین میں بہت اہلیت نظر آئی ہے اگر انہیں وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ انسانیت کی بہترین خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں قیام کے دوران ہسپتال انتظامیہ اور عوام کی جانب سے ملنے والے تعاون اور محبت پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

22/12/2014 - 17:43:39 :وقت اشاعت