بند کریں
صحت صحت کی خبریںپارکنسن کا آج عالمی دن، دنیا میں چھ ملین جبکہ پاکستان میں 4لاکھ سے زائد مریض ہیں

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/04/2015 - 20:15:40 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 19:55:47 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 19:51:48 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 19:09:19 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 18:56:47 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 18:50:09 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 18:48:09 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 18:48:09 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 16:47:55 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 10:59:28 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 10:57:56

پارکنسن کا آج عالمی دن، دنیا میں چھ ملین جبکہ پاکستان میں 4لاکھ سے زائد مریض ہیں

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10 اپریل۔2015ء)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر انجم حبیب وہرہ اور پاکستان میں ڈی بی ایس طریقہ علاج کے پہلے ماہر پروفیسر آف نیوروسرجری لاہور جنرل ہسپتال ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ پارکنسن ایک قابل علاج مرض ہے اور میڈیکل سائنس کی ترقی نے آج ایسے پیچیدہ امراض کے کامیاب علاج کے لیے ادویات متعارف کروادی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارکنسن کے عالمی دن کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر انجم حبیب وہرہ اور پروفیسر خالد محمود نے بتایا کہ 11اپریل کو ورلڈ پارکنسن ڈے پرعام لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کرنے اور طبی ماہرین کواس مرض کی روک تھام کے لیے تحقیق کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پارکنسن سے متاثرہ افراد کی تعداد4لاکھ سے زائد ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ تعداد 6 ملین سے تجاوز کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارکنسن کو عام طور پر بوڑھے افراد کی بیماری سمجھا جاتا ہے تاہم کسی بھی عمر کے افراد اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس بیماری میں مریض کے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور اس کا جسم کپکپاتا ہے۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ آج طب کی دنیا میں انقلاب برپا ہوچکا ہے اور پارکنسن اور پٹھوں کی دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی سرجری اور ادویات کے ذریعے علاج ممکن ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ علاج کے ساتھ ساتھ پارکنسن کے مریض کی حوصلہ افزائی بھی بہت ضروری ہے کیونکہ مریض کی قوت ارادی اور جینے کی امنگ ہی اس کی شفایابی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ باقی دنیا کی نسبت سستا ہونے کے باوجود اس مرض کا علاج پاکستان میں غریب لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔چنانچہ مخیر حضرات اور خدمت خلق کرنے والی سماجی تنظیموں کو بڑھ چڑھ کر آگے آنا چاہیے اور اس مرض میں مبتلا افراد کے علاج میں مالی طورمعاونت کرنی چاہیے۔

10/04/2015 - 18:50:09 :وقت اشاعت