بند کریں
صحت صحت کی خبریںآئندہ مالی سال میں پروگرام کا دائرہ کار 36 اضلاع تک بڑھایا جائے گا‘خواجہ سلمان رفیق
پنجاب ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/05/2015 - 22:55:12 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:47:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:40:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:24:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:00:05 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:55:22 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:33:26 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:26:43 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:11:42 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:05:49 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 19:56:47

آئندہ مالی سال میں پروگرام کا دائرہ کار 36 اضلاع تک بڑھایا جائے گا‘خواجہ سلمان رفیق

پنجاب کے 22 اضلاع میں تھیلسیمیا پریوینشن پروگرام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے‘مشیر صحت پنجاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 08 مئی۔2015ء ) پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں تھیلسیمیا پریوینشن پروگرام 22 اضلاع میں کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس پروگرام کی بنیاد وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے 2012 میں رکھی تھی۔ آئندہ مالی سال میں تھیلسیمیا پریوینشن پروگرام کو صوبے کے تمام اضلاع تک بڑھا دیا جائے گا اورحکومت تمام وسائل مہیا کرے گی۔یہ بات مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے انٹرنیشنل تھیلسیمیا ڈے کے موقع پر فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

سیمینار میں پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فخر امام،پراجیکٹ ڈائریکٹر تھیلسیمیا پریوینشنپروگرام پروفیسر شمسہ ہمایوں،ڈائریکٹر جنرل پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ رضوان رشید ،کالج کے سابقہ پرنسپلز،اساتذہ ،ڈاکٹرز اور نرسز نے شرکت کی۔پرنسپل فخر امام نے کہا کہ تھیلسیمیاکے مرض میں مبتلا ہونے والے بچوں کا کوئی قصور نہیں بلکہ وہ ہم سے سوال کر سکتے ہیں کہ اس مرض میں وہ کیوں مبتلا ہوئے۔

ڈاکٹر فخر امام نے کہا کہ ذرا سی احتیاط اور شادی سے پہلے لڑکی اور لڑکے کے بلڈ ٹیسٹ آنے والی نسل کو موروثی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر شمسہ ہمایوں نے بتایا کہ پنچاب وہ واحد صوبہ ہے جہاں تھیلسیمیا کی روک تھام کے لئے سنجیدہ کوشش کرتے ہوئے پریوینشن پرگرام کا اجراء کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تھیلسیمیاکے50 ہزار رجسٹرڈ مریض ہیں جبکہ 10 ملین کیریئرہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام صوبے کے 22 اضلاع میں کام کررہا ہے۔1421 تھیلسیمیا فیملیز کے29359افراد کی سیکریننگ ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے تھیلسیمیا ہیلپ لائن، تھیلسیمیا ٹریکنگ سسٹم، تھیلسیمیاویب پیج اور تھیلسیمیافیس بک پر کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت لاہور،راولپنڈی،ملتان اور بہاولپور میں ریجنل سینٹرز قائم کئے جا چکے ہیں اور پنجاب بھر میں تھیلسیمیاسے بچاؤ اور خاتمہ کی مکمل سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جس میں تھیلسیمیا بلڈ ٹیسٹ ،جنیاتی مشاورت،تشخیص قبل ازپیدائش ،شادی سے قبل تھیلسیمیاکا ٹیسٹ اور ڈی این اے لیب جیسی سہولیات شامل ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومت تھیلسیمیا سمیت تمام بیماریوں کی روک تھام کے خصوصی پروگرام پر عملدرآمد کررہی ہے کیونکہ بیماریوں کی روک تھا م کے بغیر مریضوں کے علاج کے لئے تمام وسائل کم پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھیلسیمیاکے مرض میں مبتلا بچوں کے والدین کی Pain اور ان کے مسائل کو کوئی دوسرا شخص نہیں سمجھ سکتا۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ تھیلسیمیاکے مرض کے بارے شعور وآگاہی پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ لوگ موروثی مرض سے بچنے کے لئے شادی سے پہلے خون کا تجزیہ کرا کے اس بات کی تسلی کر لیں کہ وہ تھیلسیمیاکے کیرئیرتو نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھیلسیمیاکیئریئرز کی باہم شادی سے پیدا ہونے والے بچے تھیلسیمیامیجرکا شکار ہو جاتے ہیں۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ تھیلسیمیا پریوینشن پروگرام کو کامیاب بنانے اور مانیٹرنگ سسٹم کے لئے پی آئی ٹی بی کاتعاون قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پروگرام کو کامیابی سے چلانے کے لئے سخت مانیٹرنگ کی ضرورت ہے جس کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے۔

08/05/2015 - 20:55:22 :وقت اشاعت