بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں ڈپریشن کامرض بیماریوں میں چوتھے نمبر پر آگیا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/10/2015 - 12:34:15 وقت اشاعت: 06/10/2015 - 16:55:25 وقت اشاعت: 06/10/2015 - 14:03:38 وقت اشاعت: 06/10/2015 - 13:22:37 وقت اشاعت: 06/10/2015 - 12:05:47 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 16:50:35 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 15:20:21 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 14:31:57 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 14:22:12 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 14:08:12 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 14:03:57

پاکستان میں ڈپریشن کامرض بیماریوں میں چوتھے نمبر پر آگیا

لاہور۔5 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 05 اکتوبر۔2015ء)دنیابھرکے بعض دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مختلف ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں روز افزوں زبردست اضافہ ہوتا جارہاہے جس کے باعث ڈپریشن کامرض ٹاپ ٹین بیماریوں میں چوتھے نمبر پر آگیاہے جبکہ معاشی ، معاشرتی ، گھریلومسائل دماغی امراض میں خطرناک حد تک اضافہ کاموجب بن رہے ہیں تاہم 35 فیصد لوگ کسی نہ کسی چھوٹے یا بڑے ذہنی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود علاج معالجہ کی جانب توجہ نہیں دے رہے جس کے باعث انہیں مختلف پیچیدگیوں کا سامنا کرناپڑرہاہے ۔

ملک کے ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر ذوالفقار علی نے اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 05 اکتوبر۔2015ء کو بتا یا کہ ایسی امراض میں دماغی کام متاثر ہو جاتا ہے اور انسان کی سوچ اور اس کے رویے میں ایسی تبدیلیاں آجاتی ہیں کہ اس کی سماجی زندگی اور کام کاج متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ 35 فیصد لوگ ڈپریشن، شیزوفرینیا، مینیا وغیرہ کے چھوٹے یا بڑے مرض میں کسی نہ کسی طرح مبتلا ہونے کے باعث اس کی تنگی برداشت کرتے رہتے ہیں مگر ماہرین نفسیات سے رابطہ نہیں کرتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارا اب تک ذہنی امراض کو بطور مرض قبول نہیں کر رہا جس سے دن بدن ذہنی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت ڈپریشن نامی ایک عام مرض ٹاپ ٹین بیماریوں میں چوتھے نمبر پرپہنچ چکاہے جبکہ سال 2020ء تک ڈپریشن کا مرض ٹاپ ٹین میں دوسرے نمبر پر آ جانے کا بھی شدید خدشہ ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اسی طرح باقی دوسرے ذہنی امراض میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ بات بڑی افسوس ناک ہے کیونکہ اس وجہ سے گھر ، معاشرے ، ملک اور دنیا پر معاشی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ذہنی امراض میں اضافے کی اہم وجوہات میں معاشی مسائل ، معاشرتی تنہائی ، انسان کی انسان سے دوری، ایک دوسرے کیلئے وقت کی کمی ،معاشرے میں ناہموای ، روزگار کا نہ ملنا ، خود کش حملے اور دیگر وجوہات شامل ہیں لیکن اس میں اہم رول انسان کی شخصیت اور وراثت کا بھی ہے ۔اگر شخصیت مضبوط اور وراثت میں ذہنی بیماریاں نہ ہوں تو ذہنی امراض کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ اشخاص جو کمزور شخصیت کے مالک ہیں اور ان کی وراثت میں ذہنی امراض موجود ہیں تو ایسی کیفیت میں ذہنی امراض زیادہ ہوتی ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ اس سلسلہ میں ہر سال 10اکتوبر کو مینٹل ہیلتھ ڈے منایاجاتا ہے اور عوام الناس کی ایک کثیر تعداد کو مدعو کیا جاتا ہے تاکہ ذہنی آگاہی کا پیغام گھر گھر پہنچ جائے۔ انہوں نے بتایاکہ ذہنی امراض خواتین اور مرد حضرات میں مختلف تناسب کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔

مثلاً ڈپریشن کی بیماری عورتوں میں مردوں کی نسبت دوگنا پا ئی جاتی ہے تاہم شیزو فرینیا میں جنس کا تناسب تقریباً ایک جیسا ہے ۔انہوں نے بتایاکہ ذہنی بیماریاں کئی اقسام کی ہیں جو افراد کو بچپن سے لے کر بڑھاپے تک متاثر کرتی ہیں لیکن ذہنی امراض کی شرح نوجوانوں میں نسبتاً زیادہ ہے اس لئے ذہنی امراض کو ہمیں دو سطح پرموثر طریقے سے ڈیل کرنا چاہیے ۔


انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے طرز زندگی میں تبدیلیاں لانا پڑتی ہیں اور سوچ کو مثبت رنگ دینا ہوتا ہے۔ باقاعدہ ورزش ، مناسب نیند ، مناسب غذا، مناسب کام کے اوقات ذہنی تندرستی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے قدرت کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کو شکر کے ساتھ قبول کرنااور اس پر خوش رہنا چاہیے اور چھوٹی سے چھوٹی خوشی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے تاکہ کہیں ایک بڑی خوشی کیلئے ہزاروں خوشیاں گنوا نہ دیں ۔

انہوں نے کہا کہ کزن میرج ذہنی بیماریوں کے پھیلاؤ میں بہت اہم کردارادا کرتی ہے اس لئے اس روش کو آہستہ آہستہ ترک کر دیا جائے تو بہت اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ذہنی امراض کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ تحصیل اور ضلع کی سطح پر ذہنی امراض کے مراکز قائم کئے جائیں اور وہاں ایک سائیکاٹرسٹ اور سائیکالوجسٹ کو تعینات کیا جائے ۔

انہوں نے بتایاکہ اس وقت ذہنی امراض کے مراکز بڑے بڑے اضلاع میں موجود ہیں جبکہ چھوٹے اضلاع اور تحصیلیں اس سے محروم ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ اس وقت لاہور، فیصل آباد ، ملتان ، راولپنڈی ، ڈیرہ اسماعیل خان،بہالپوراور میانوالی میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سینٹرز قائم ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ نوجوان نسل میں دن بدن نشے کی طرف بڑھتا ہو ا رجحان بھی ذہنی امراض کو بڑھانے کا ذمہ دار ہے جن میں چرس ، افیون ، ہیروئن ، بھنگ ،کوکین، نشہ آور گولیوں اور ٹیکوں کا استعمال شامل ہے۔

پرانے زمانے میں جبکہ علم اور تحقیق اپنے عروج پر نہ تھی لوگ ذہنی امراض کے بارے میں توہمات کا شکار تھے۔ جیسے بھوت ،پریت جن، تعویزات کے متعلق خیال تھا کہ یہ چیزیں ذہنی امراض پیدا کرتی ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ علم کی روشنی پھیلنے کے ساتھ ساتھ اس انداز فکر میں تبدیلی آ جائے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ آج ہم اکیسویں صدی میں قدم رکھ چکے ہیں اور یہ دور علم اور تحقیق کے عروج کا دور ہے مگر ذہنی امراض کے بارے میں ہمارے ا عتقادات تبدیل نہیں ہو سکے۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ ذہنی مریضوں کو براہ راست سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جانے کی بجائے اوسطاً 5سال تک پیروں، خانقاہوں اور تعویزات کے چکر میں پڑے رہتے ہیں حالانکہ ان چیزوں کا ذہنی امراض سے کوئی تعلق نہ ہے اور نہ ہی تعویزات ان امراض کو ٹھیک کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اگرچہ اس سلسلہ میں مختلف اوقات میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ لوگوں میں اس بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے لیکچرز کا انعقاد کرتا رہتا ہے تاہم یہ معاشرے کے تمام طبقات کا بھی فرض ہے کہ وہ ذہنی امراض کی روک تھام اور سازگار معاشی و معاشرتی حالات پیداکرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔

05/10/2015 - 16:50:35 :وقت اشاعت