بند کریں
صحت صحت کی خبریں” کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز“ کافیز 2افتتاح ہونے کے بعد بھی غیر فعال

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/04/2016 - 16:03:36 وقت اشاعت: 15/04/2016 - 13:15:10 وقت اشاعت: 15/04/2016 - 11:37:31 وقت اشاعت: 14/04/2016 - 16:44:26 وقت اشاعت: 14/04/2016 - 16:34:59 وقت اشاعت: 14/04/2016 - 16:20:56 وقت اشاعت: 14/04/2016 - 13:39:58 وقت اشاعت: 14/04/2016 - 11:11:49 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 22:42:12 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 22:15:25 وقت اشاعت: 13/04/2016 - 17:33:10

” کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز“ کافیز 2افتتاح ہونے کے بعد بھی غیر فعال

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 اپریل۔2016ء)شہر قائد میں دل کی بیماریوں کادوسرا بڑا اسپتال” کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز“ کافیز 2افتتاح ہونے کے بعد بھی غیر فعال، قیمتی مشینری اور دیگر آلات زنگ آلودہونے لگے، چند ہفتے قبل گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان اور وزیر اعلی سید قائم شاہ کے دورے بھی بے سود رہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں واقع دل کی بیماریوں کا دوسرا بڑا سپتال” کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیز “ فنڈز کی عدم دستیابی اور اسٹاف کی کمی کی وجہ سے تاحال غیر فعال ہے۔

کراچی میں مریضوں کی بڑھتی ہو ئی تعداد کے باعث اسپتال کے فیز 2 کی ضرورت محسوس کی گئی تو اس کی تعمیر شروع کی گئی۔ 31 جو لا ئی 2009 کوساڑھے 62کروڑ روپے کی لاگت سے اسپتال کے فیز 2 کی تعمیر مکمل ہوئی لیکن یہ افتتاح کا منتظر رہا۔ آخر کار سائیں سرکار کو ہوش آیا اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس وقت کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے ساتھ 7 نومبر 2015 کو کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزفیز 2 کا افتتاح کردیاتاہم 5 ماہ گزر جانے کے بعد بھی اسپتال کا یہ فیز غیر فعال ہے۔

آکسیجن لائن نصب نہ ہونے کے باعث کروڑوں روپے کی مشینری غیر فعال پڑی ہے۔امراض قلب کے اس اسپتال کا فیز ٹو 250بستروں پر مشتمل ہے جن میں 52 رومزپرائیویٹ ہیں جبکہ 4 رومز وی آئی پیز کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔جہاں پر ایل سی ڈی، فریج، مائیکروویو، ائیرکنڈیشنڈ سمیت دیگر جدید سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آکسیجن مشینری اورلائن کی تنصیب کے اخراجات کے لیے اعلی حکام کو بارہادرخواستیں دی جاچکی ہیں تاہم کوئی مثبت ایکشن نہیں لیا گیا۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بھی اسپتال کے دورے کرچکے ہیں تاہم ان کے دورے بھی سود مند ثابت نہیں ہوئے۔اس حوالے سے اسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر زاہد رشیدنے بتایا کہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیز کے فیز2 میں جدید مشینری تو نصب کر دی گئی ہے لیکن ہنگا می حالت کی اہم ضرورت آکسیجن لائن کی تنصیب نہ ہونے سے اسپتال نہ مکمل سا معلوم ہو تا ہے۔

#اسپتال کی فعال نہ ہونے کی وجہ سے مشینری پر سے پلاسٹک کے کورتک نہیں اتارے جاسکے ہیں۔ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزکو کارڈک ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ کا درجہ بھی دیا جا چکا ہے۔ اسپتال میں40 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے آئی ایچ ڈی سٹی اینجیو کی مشین نصب کی گئی ہے،جو256 ملٹی سلائس سٹی اینجیو بھی کہلاتی ہے پہلی مرتبہ پاکستان کے کسی اسپتال میں دستیاب ہے۔

14/04/2016 - 16:20:56 :وقت اشاعت