بند کریں
صحت صحت کی خبریں90دنوں میں ایف سی آرکے خاتمے کاوعدہ ایفاء نہ کرناایک بڑاسوالیہ نشان بن چکا ہے،محمدعلی درانی،پاکستان ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 30/12/2008 - 12:40:36 وقت اشاعت: 24/12/2008 - 19:22:47 وقت اشاعت: 22/12/2008 - 15:54:37 وقت اشاعت: 20/12/2008 - 13:06:06 وقت اشاعت: 20/12/2008 - 11:32:02 وقت اشاعت: 19/12/2008 - 20:57:27 وقت اشاعت: 18/12/2008 - 14:26:54 وقت اشاعت: 16/12/2008 - 14:09:28 وقت اشاعت: 16/12/2008 - 14:09:02 وقت اشاعت: 15/12/2008 - 12:36:14 وقت اشاعت: 08/12/2008 - 14:39:29

90دنوں میں ایف سی آرکے خاتمے کاوعدہ ایفاء نہ کرناایک بڑاسوالیہ نشان بن چکا ہے،محمدعلی درانی،پاکستان کودرپیش موجودہ چیلنجزکامقابلہ کرنے کیلئے آج ہماری سب سے بڑی ضرورت قومی یکجہتی ہے ، پچیس دسمبرکوقائداعظم کے یوم ولادت کویوم یکجہتی کے طور پرمنایاجائے

پشاور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 19دسمبر۔ 2008 ء)سابق وزیراطلاعات اورمسلم لیگ ق کے رہنماء سینیٹرمحمدعلی درانی نے کہا ہے نیٹو افواج افغانستان میں اپنی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے ، کیونکہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے افغانستان آئی تھیں لیکن دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے مزید اضافہ ہورہا ہے اس لئے امریکہ کواپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز پشاورپریس کلب میں میٹ دی پریس کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ نیٹوکی دہشت گردی کیخلاف جنگ خطے میں دہشت گردی روکنے کی بجائے دہشت گردی بڑھانے کاسبب بن رہی ہے یہ امراس بات کوثابت کرتاہے کہ جس پالیسی کے تحت یہ فورسزافغانستان میں آئی تھیں وہ مکمل طور پرناکام ہوگئی ہیں ۔لہذاہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ اور اقوام متحدہ ہشت گردی کے خلاف جنگ کی اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں۔

انہوں یہ بھی مطالبہ کیاکہ علاقے میں پاکستان ،روس،چینی اور ایران کی مشاورت سے نئی پالیسی بنائی جائے جبکہ حالات اوروقت کاتقاضاہے کہ پاکستان اقوام متحدہ سے مطالبہ کرے کہ ایساف اورنیٹوکی فورسزفوری طورپرافغانستان سے واپس چلی جائیں اور نئے امریکی صدرباراک اوباماعراق کے ساتھ ساتھ افغانستان سے بھی امریکی افواج کی واپسی کااعلان کریں ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نیٹو فورسزکے افغانستان میں قیام کے دوران سب سے زیادہ متاثرہونیوالاملک ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان سے وعدہ کیاگیاکہ تھاکہ امریکہ اورمغربی دنیامسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کی سفارتی اوراخلاقی حمایت کریگی مگرمددتودرکنارنیٹوفورسزکے افغانستان میں قیام کے دوران پاکستان کی مغربی سرحد کو غیرمحفوظ بنادیاگیاجبکہ بھارت آج ہماری مغربی سرحدوں تک آپہنچاہے اوروہاں سے بلوچستان اورفاٹاکے علاقوں میں منظم دہشت گردی کی پشت پناہی کررہاہے جبکہ اب توبھارتی فورسزکوافغانستان میں لانے کی باتیں بھی کھلم کھلاکی جارہی ہیں ان حالات میں پاکستان کایہ حق ہے کہ وہ مطالبہ کرے کہ نیٹوفورسزافغانستان سے واپس چلی جائیں اور اوآئی سی کے ممالک کی ممالک کی فورسزکواقوام متحدہ کے تحت افغانستان میں امن کے قیام کیلئے تعینات کیاجائے۔

محمدعلی درانی نے کہا کہ امریکی فورسزکے پاکستانی حدود میں مسلسل میزائل حملے پاکستانی عوام کیلئے ناقابل قبول ہیں اب جبکہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدودکی خلاف ورزی کی گئی ہے ایسی صورتحال میں فضائی حملوں پرپاکستانی حکومت کی خاموش حمایت ملکی اور عوامی مفادمیں نہیں ہے اورہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکی فورسزکے ڈرون حملوں اور بھارتی فضائیہ کی جانب سے ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کے معاملہ کوبلاتاخیراقوام متحدہ میں اٹھایاجائے اور اپنی فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی رکوانے کیلئے پوری دنیاکی مددحاصل کرنے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک خصوصی سفارتی مہم کاآغازکیاجائے ۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پرحکومتی خاموشی افسوسناک ہے ۔محمدعلی درانی نے کہاکہ 22اکتوبرکوپارلیمنٹ میں سیرحاصل مشاورت کے بعد نیشنل سیکورٹی پرپارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تاہم آج دوماہ گزرنے کے باوجودطے کئے گئے ایجنڈے پرکوئی پیشرفت نہیں کی گئی جوافسوسناک امرہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں قبائلی علاقوں میں ایف سی آرکے90دن میں خاتمہ کرنے کااعلان کیاتھامگرتاحال اس پربھی کوئی پیشرفت نہ ہوناایک بڑاسوالیہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبہ سرحدمیں مسلسل امن وامان کی صورتحال کی خرابی کی جانب بڑھ رہی ہے اس پرستم بالائے ستم یہ ہے کہ باقی ملک آج صوبہ سرحدکی عوام کی حالت زارسے بڑی حدتک بے خبرہے۔انہوں نے کہاکہ صوبہ سرحدکی حکومت کاصوبے کے حالات سے باقی ملک کوباخبررکھنے کیلئے کوئی اقدام نہ کرنااوریہاں کے عوام کی مشکلات سے پورے ملک کوآگاہی نہ دیناافسوسناک امر ہے بالصوصی ایسے حالات میں جبکہ صوبائی مخلوط حکومت مرکزی حکومت کابھی حصہ ہے یہ امراوربھی تشویشناک کاباعث بن جاتاہے۔

انہوں نے کہاکہ آج باعزت پختونوں کے ساتھ ہمدردی کیلئے حاضرہواہوں میں اعلان کرتاہوں کہ سرحد کے دورے سے مجھے جویہاں کے حالات سے آگاہی حاصل ہوئی ہے اس بارے میں پورے ملک میں آگاہی کیلئے کام کرونگا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کودرپیش موجودہ چیلنجزکامقابلہ کرنے کیلئے آج ہماری سب سے بڑی ضرورت قومی یکجہتی ہے اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ پچیس دسمبرکوقائداعظم کے یوم ولادت کویوم یکجہتی کے طور پرمنایاجائے اور پوری قوم اس روزاعلان کرے کہ ہم متحد ہیں پاکستان کے دفاع کیلئے ،ہم متحدہیں خطے میں امن کیلئے اورہم متحد ہیں ہرقسم کی دہشت گردی کامقابلہ کرنے کیلئے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت آل پارٹیز کانفرنس کے اقدام کوآگے بڑھاتے ہوئے پچیس دسمبرکوزندگی کے تمام شعبوں کے قائدین کی قومی کانفرنس بلائے یوم یکجہتی پرتمام سیاسی جماعتوں،ضلعی حکومتوں،سول سوسائٹی ،میڈیا ، دانشوروں، مزدوروں، طالبعلموں، خواتین،غرض ہرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراداس روزملک کودرپیش چیلنجزکاسامناکرنے کیلئے یک زبان ہوکراتحادکاعملی مظاہرہ کریں۔
19/12/2008 - 20:57:27 :وقت اشاعت