دُبئی جیل میں قید 11خواتین نے رہا ہونے سے انکار کر دیا

یہ قیدی خواتین باہر کی دُنیا کی نسبت جیل کو زیادہ آرام دہ مقام خیال کرتی ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات دسمبر 18:07

دُبئی جیل میں قید 11خواتین نے رہا ہونے سے انکار کر دیا
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13دسمبر2018ء ) دُبئی کی جیلوں میں مختلف جرائم کے تحت سزا کاٹ رہی بعض خواتین اپنی قید کی زندگی سے بہت مطمئن دکھائی دیتی ہیں۔ ایسی گیارہ خواتین کا پتا چلا ہے جنہوں نے اپنی سزا کی مُدت پُوری کرنے کے بعد رہا ہو کر وطن واپس جانے سے انکار کر دِیا۔ دُبئی ویمنز جیل کی ڈائریکٹر کرنل جمیلہ خلیفہ الزابی نے بتایا کہ یہ مذکورہ خواتین اس لیے جیل کی زندگی سے محروم نہیں ہونا چاہتیں کیونکہ انہیں یہاں ہر طرح کا آرام اور آسائش میسر تھی۔

خواتین کی اس جیل کا انتظام انتہائی اعلیٰ معیار کا ہے۔ یہاں اس بات کا بہت دھیان رکھا جاتا ہے کہ قیدی خواتین کو غذائیت سے بھرپور خوراک مہیا کی جائے اور اُن کی صحت کو قائم رکھنے کے لیے علاج معالجے کی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔

(جاری ہے)

یہاں پر قید خواتین اپنے گھر کے افراد خاص طور پر بچوں کو بھی ساتھ رکھ سکتی ہیں۔ اس جیل کا ماحول بہت پُرامن اور پُر سکون ہے۔

عموماً جیل کو کسی جُرم کے صلے میں ملنے والی سزا خیال کیا جاتا ہے تاہم دُبئی ویمنز جیل میں خواتین کے آرام و سکون کا بہت دھیان رکھا جاتا ہے۔ ایک عرب مُلک تعلق رکھنے والی خاتون جو اپنی سزا کی مُدت پُوری کر چکی ہے، اُس کا کہنا ہے کہ اُس نے اپنی قید کے دوران بہت محفوظ زندگی گُزاری ہے، ایسی مزے دار زندگی تو اُسے اپنے آبائی وطن میں بھی میسر نہیں تھی۔

یہاں اُسے نئے ہُنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے پسندیدہ مشاغل اختیار کرنے کا موقع بھی مِلا ہے جن میں مصوری بھی شامل ہے۔ ایک اور غیر مُلکی خاتون کا کہنا تھا کہ یہ جیل بالکل بھی ایک سزاکی جگہ معلوم نہیں ہوتی۔ یہاں ایک بڑی لائبریری کے علاوہ سپورٹس سرگرمیوں کے لیے وسیع ہال اور ڈرائنگ رُوم بھی ہے۔ اس کے علاوہ میچز کے انعقاد کے لیے بھی ایک وسیع جگہ مختص کی گئی ہے۔

خواتین پُوری آزادی کے ساتھ ایک بلڈنگ سے دُوسری بلڈنگ تک بِلا کسی روک ٹوک کے آ جا سکتی ہیں۔ جیل کی ڈائریکٹر الزابی نے مزید بتایا کہ یہاں موجود سہولتوں میں کبھی کمی نہیں آنے دی جاتی۔ کئی خواتین کے پیدائشی امراض کا بھی بہترین علاج کیا جاتا ہے۔ جیل میں کھانا سپلائی کرنے والا مملکت بھر میں اپنے اعلیٰ غذائی معیار اور سروس کی بناء پر جانا جاتا ہے۔

اگرچہ یہاں پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین ہیں، تاہم کسی قسم کی نسلی منافرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تمام خواتین سے یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ جیل کی تمام تر انتظامیہ کے ذہنوں میں بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ خواتین قیدیوں کو ایسے مواقع مہیا کرنا جس کے باعث وہ جیل سے نکلنے کے بعد اپنی زندگی کا خوشگوار طریقے سے آغاز کر سکیں۔

متعلقہ عنوان :

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments