دُبئی: پاکستانی ورکر کو سزا میں کمی کروانے کی اپیل پر لینے کے دینے پڑ گئے

عدالت نے35 سالہ شخص کی 10 سال قید کی سزا بڑھا کر 15 سال کر دی پاکستانی نوجوان نے ایک شخص کا قتل کروانے کے لیے دو ہم وطن افراد کو 15 ہزار درہم کی رقم دی تھی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات نومبر 10:54

دُبئی: پاکستانی ورکر کو سزا میں کمی کروانے کی اپیل پر لینے کے دینے پڑ ..
دُبئی(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔7نومبر 2019ء) دُبئی کی عدالت نے ایک پاکستانی شہری کو اپنے رشتہ دار کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے مروانے کے جُرم میں 15 سال قید کی سزا سُنا دی ہے۔ملزم کو پہلے عدالت کی جانب سے 10 سال قید کی سزا سُنائی گئی تھی، جس کے خلاف اُس نے اپیل کر رکھی تھی۔ تاہم اپیل کی سماعت کے دوران استغاثہ نے ثابت کیا کہ ملزم کو 10 سال قید کی سزا کم دی گئی ہے، اس میں اضافہ کیا جائے۔

جس کے بعد عدالت نے پاکستانی ورکر کی سزا میں مزید پانچ سال کا اضافہ کر دیا۔ استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا کہ مقتول نے 2005ء میں ملزم کے ایک رشتہ دار قتل کر دیا تھا اور پھر فرار ہو کر دُبئی میں مستقل ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔35 ملزم اس سے اپنے رشتہ دار کی موت کا بدلہ لینے کے لیے بے چین تھا۔

(جاری ہے)

اس مقصد کے لیے اُس نے دو پاکستانی گینگسٹرز کی خدمات حاصل کیں۔

پاکستانی ورکر نے ان دونوں کرائے کے قاتلوں کو اپنے رشتہ دار کے معمولات اوراُس کی رہائش گاہ کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں۔ جس کے بعد اس واردات کو انجام دینے کا منصوبہ طے پا گیا۔ پاکستانی ورکر کی جانب سے دونوں غنڈوں کو اس مقصد کے لیے 15 ہزار درہم دیئے گئے۔ دونوں افراد نے مِل کر 33 سالہ شخص کو خنجر اور ہتھوڑے کے متعدد وار کر کے ہلاک کر دیا اور لاش ایک کار پارکنگ میں چھُپا دی۔

جسے وہاں پر موجود ایک ملازم نے دیکھ کر پولیس کو اطلاع کر دی تھی۔ دونوں ملزمان نے اس واردات کے چند روز بعد واپس وطن فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں دُبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا۔جن کی عمریں 31 سال اور 47 سال تھیں۔ ملزمان نے تفتیش کے دوران قتل کی اس واردات کے اصل منصوبہ ساز کا نام بتا دیا۔ جس کے بعد پولیس نے اس پاکستانی ورکر کو بھی گرفتار کر لیا۔ عدالت نے کرائے کے قاتلوں کو 10، 10 سال جبکہ قتل کے اصل منصوبہ ساز کو 15 سال قید کی سزا سُنا ئی ہے۔ تینوں ملزمان کو سزا کی مُدت پوری ہونے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments