”امارات میں مقیم افراد گھروں سے باہر نہ نکلیں“

اماراتی حکومت نے مقامی اورتارکین وطن کو تاکید کی ہے کہ وہ کورونا کے خدشے کے باعث گھروں پر ہی رہیں ، انتہائی مجبوری کے سوا گھروں سے باہر نہ نکلیں

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر مارچ 12:02

”امارات میں مقیم افراد گھروں سے باہر نہ نکلیں“
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مارچ 2020ء) متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی فیصلے لیے ہیں جن میں اندرون و بیرون ملک پروازوں کی معطلی اور تمام کاروباری مراکزاور شاپنگ مالز کو پندرہ روز کے لیے بند کر دینا ہے۔ اماراتی وزارت داخلہ اور نیشنل ایمرجنسی اینڈ کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اماراتی شہریوں، سیاحوں اور تارکین وطن کے نام ایک پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں تاکید کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر گھروں میں رہیں،البتہ اگر کوئی انتہائی مجبوری درپیش ہو تو پھر ہی گھر سے باہر آئیں تاکہ وہ کورونا کی وبا سے محفوظ رہ سکیں۔

امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی وام کی جانب سے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام جاری ہوا ہے جس میں اماراتی حکومت کی جانب سے عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں پر ہی رہیں اور کسی اشد ضرورت کے وقت ہی گھر سے باہر نکلیں۔

(جاری ہے)

اماراتی حکومت کا کہنا ہے کہ لوگ صرف خوراک، ادویہ اور دیگر انتہائی ضروری سامان خریدنے کے لیے ہی باہر نکلیں۔

زیادہ سے زیادہ وقت گھر پر ہی گزاریں تاکہ ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کورونا کی وبا سے ممکنہ حد تک محفوظ رہ سکیں۔

حکومتی پیغام میں لوگوں کو یہ ہدایت بھی گئی ہے کہ باہر نکلتے وقت اپنی ذاتی کار کا استعمال کریں جس میں تین سے زائد افراد سفر نہ کریں۔ تمام افراد عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں اور خاندانی اجتماعات کے دوران دیگر افراد سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹیکسیوں اور دیگر ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے حوالے سے بھی آج ہدایات جاری کر دی جائیں گی۔

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ گھر واپس آ کر سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں۔ اگر کسی بہت مجبوری کے باعث ہسپتالوں کا دورہ کرنا پڑجائے تو فیس ماسک ضرور پہنا جائے۔ نیوز ایجنسی وام کے مطابق لوگوں کو یہ ہدایات جاری کرنے کا مقصد انہیں سماجی طور پر محدود کر دینا ہے ۔ تاکہ لوگ پرہجوم مقامات کا رُخ نہ کریں اور کم سے کم لوگوں سے رابطہ رہے۔ واضح رہے کہ اماراتی حکومت نے بتایا ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر کورونا وائرس کو دیگر افراد میں منتقلی کا باعث بنیں گے، انہیں جرمانے اور قید کی سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔ 

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments