کسی مرد کے گھر میں موجود نہ ہونے کی صورت میں بالغ خاتون بھی عید نماز کی امامت کروا سکتی ہے

متحدہ عرب امارات میں مساجد بند ہونے کے باعث سے شہریوں کو گھروں میں عید کی نماز ادا کرنے کی ہدایت، کسی مرد کی گھر میں غیرموجودگی کی صورت میں بالغ خاتون عید نماز کی امات کرواسکتی ہے: حکام

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعرات مئی 17:55

کسی مرد کے گھر میں موجود نہ ہونے کی صورت میں بالغ خاتون بھی عید نماز ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21مئی 2020ء) کسی مرد کے گھر میں موجود نہ ہونے کی صورت میں بالغ خاتون بھی عید نماز کی امامت کروا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مساجد بند ہونے کے باعث سے شہریوں کو گھروں میں عید کی نماز ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیشِ نظر عید کے دنوں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکومتی عہدیدار کے مطابق عید کی تکبیر نماز کے وقت سے 10منٹ پہلے لاؤڈ سپیکر پر نشر کی جائے گی اور مسلمان عید کی نماز گھروں میں ادا کریں گے۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ مسلمان انفرادی طور پر بھی عید نماز ادا کرسکتے ہیں اور زیادہ لوگ ہونے کی صورت میں جماعات بھی کروائی جاسکتی ہے۔ خاندان کا کوئی بھی بڑا مرد مثلاََ باپ، بھائی یا دادا عید نماز کی امامت کروا سکتا ہے لیکن کسی مرد کے گھر میں موجود نہ ہونے کی صورت میں کوئی بالغ خاتون بھی نماز کی امامت کروا سکتی ہے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 941 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مملکت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی گنتی 26,004 ہو گئی ہے۔ کورونا کے تمام نئے مریضوں کی حالت مستحکم ہے۔پچھلے چند روز میں مملکت کے مختلف علاقوں میں 40 ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ لئے گئے۔ پچھلے 24گھنٹوں میں کورونا کے 1,018 مریض صحت یاب ہو گئے، جو ایک ہی دن میں شفا پانے والے مریضوں کی ریکارڈ گنتی ہے۔

امارات میں اب تک کورونا کے 11,809 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔وزارت صحت کے مطابق گزشتہ روز کورونا کےچھ مریض انتقال کر گئے، جس کے بعد کورونا سے مرنے والوں کی کُل تعداد 233 ہو گئی ہے۔عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی مہم میں حکومتی اقدامات کا بھرپور ساتھ دیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سماجی فاصلے کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔ رش والے مقامات پر جانے سے گریز کریں۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments