بند کریں
مزاح مضامین

مزید عنوان

مضامین

ال گلہری

اےال گلہری مجھےافسوس ہےکہ تیرانام اس مضمون کےلکھنےسےاردوادب میں شامل ہوگیا۔ میں نہ چاہتا تھا کہ تیرا ذکرایک شیریں راحت جان زبان میں آئے۔

اب اور تب

مفت کےمشورے

مشورے دینے والے دوقسم کے ہوتے ہیں، ایک تو وہ جو وقت بے وقت ہرجگہ اور ہر موقع پر اپنی قیمتی رائے دینے کوتیار رہتے ہیں۔ دراصل یہ پیشہ ور مشیر ہوتے ہیں،لیکن مشورے ان کے بالکل مفت ہوتے ہیں۔

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ جب مجھے مطلع کیا گیا کہ میرے تقریباتی فرائض خالصتاً رسمی اور حاشیائی ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا۔

دھوبی

علی گڑھ میں نوکرکوآقا ہی نہیں‘‘آقائے نامدار’’بھی کہتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں جوآج کل خودآقا کہلاتے ہیں

جنون لطیفہ

عام طورپریہ سمجھاجاتاہے کہ بدذائقہ کھانا پکانے کا ہنر صرف تعلیم یافتہ بیگمات کوآتاہے لیکن ہم اعداد و شمارسے ثابت کرسکتے ہیں کہ پیشہ ورخانساماں اس فن میں کسی سے پیچھے نہیں۔

مریدپور کا پیر

قصہ میرے بھتیجے سے شروع ہوتا ہے۔ میرا بھتیجا یوں دیکھنے میں عام بھتیجوں سے مختلف نہیں۔ میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ نئی پود سے تعلق رکھنے کے باعث اس میں بعض فالتو اوصاف نظر آتے ہیں لیکن ایک صفت تو اس میں ایسی ہے کہ آج تک ہمارے خاندان میں اس شدت کے ساتھ کبھی رونما نہیں ہوئی تھی۔

چارپائی اورکلچر

چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہےجونئےتقاضوں اورضرورتوں سےعہدہ برا ہونےکےلیےنِت نئی چیزیں ایجادکرنےکی قائل نہ تھی۔

کافی

“تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل لی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کافی کا عطر کیوں نہ کشید کیا جائے تاکہ ادبی محفلوں میں ایک دوسرے کے لگایا کریں۔“

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیزوتکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کوضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔

سویرے جو کل آنکھ میری کھلی

گیدڑکی موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ ہماری جو شامت آئی تو ایک دن اپنے پڑوسی لالہ کرپا شنکرجی برہمچاری سے برسبیل تذکرہ کہہ بیٹھے کہ "لالہ جی امتحان کے دن قریب آتے جاتے ہیں، آپ سحرخیز ہیں، ذرا ہمیں بھی صبح جگادیا کیجیئے۔"

ہاسٹل میں پڑھنا

ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی،اے بھی پاس کر لیا، لیکن اس نصف صدی کے دوران جو کالج میں گزارنی پڑی، ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت ہمیں صرف ایک ہی دفعہ ملی۔
فہرست 1 سے 12  تک   (734 ریکارڈز )