بند کریں
مزاح مضامین

مزید عنوان

مضامین

”خوشبو “ والی شاعرہ

کہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کو وقت سے پہلے بالغ کرنے میں تین چیزوں کا ہاتھ ہے۔گرمی ‘غربت اور پروین شاکر۔اور انہیں دیر تک جوان رکھنے میں صرف

ملکہ غزل

ان دنوں والد محترم ہمیں لاہور لائے اور مقبرہ جہانگیر کی سیرکروائی۔واپسی پروہ ہمیں مقبر ہ نور جہاں لے گئے تو ہم زارو قطاررونے لگے۔ والد صاحب نے پوچھا”تمہیں نور جہاں کی کیا بات پسند تھی؟

خواجہ سگ پرست

پیپلز پارٹی کے خواجہ نصر الدین یعنی شیخ رفیق کو ہم نے جب بھی دیکھا ‘کھاتے دیکھا یا بولتے ہوئے۔ان کی باتیں باسر وپا ہوتی ہیں یعنی ان میں بھی سری پایوں کی لذت ہے

وزیر بیان

اخبار پڑھ کر ہمیں تو لگتا ہے ہر وزیر ہی وزیر بیان ہے ۔ایک سیاست دان کی سانس اکھڑ رہی تھی۔آکسیجن لگا نے سے بھی بہتر نہ ہوئی تو اس کا پی سے ایک صحافی کو پکڑ لایا۔سیاست دان موصوف نے بیان دیا تو ان کی سانس میں سانس آئی ۔

انتظاریہ

انتظاریہ صاحب ہمارے وہ افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں کا انتظار ہوتا ہے ۔ایسے ادیب کہ بندہ ان سے آلوؤں کا بھاؤ پوچھے تو اس کا جو جواب دیں گے ‘وہ ادب ہو گا

ضرورت سر رشتہ

آپ ضرورت رشتہ کے اشتہار دیکھیں جن میں اکثر یہ لکھا ہوتا ہے کہ کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر یاسرکاری ملازم کا رشتہ درکار ہے ۔یہ نہیں لکھا ہوتا کہ سرکاری ملازم گریڈ 17کا ہویا نیچے کا کیونکہ انہیں پتہ ہے گریڈ جو بھی ہوگا اوپر کی آمدنی کافی ہو گی اور لڑکی خوش رہے گی

آہ ۔ لات موسیقی

موسیقی سے ہمیں تب سے لگاؤ ہے جب ابھی ہم نئے نئے ہوسٹل میں آئے تھے۔ لگاؤ کی وجہ یہ تھی کہ باتھ رومز کی کنڈیاں نہیں تھیں۔ سونہاتے وقت ہمیں مسلسل گاتے رہنا پڑتا تھا تا کہ باہر والوں کو پتہ چلتا رہے کہ اندر کوئی ہے۔

مولا نا زلزلہ

ہم صرف ان کے حق میں لکھتے ہیں جن کے ہم خلاف ہوتے ہیں کیونکہ ہم تو کسی کی تعریف بھی کردیں تو لوگ اس پر ہنسنے لگتے ہیں ۔پھر ہم سیاستدانوں کے بارے میں اتنا کم جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہمیشہ عزت سے پیش آتے ہیں

بیوٹی سنڈروم

اس صدی کے شروع میں جب ایک سیانے نے کہا کہ بیوی کی تلاش میں نکلو تو آنکھ کی بجائے کان کا استعمال کرو کیونکہ آپ نے بیوی کو اتنا دیکھنا نہیں ‘جتنا سننا ہوتا ہے تو کسی نے اس دانشور کی بات پرکان نہ دھرے

سراسر گذشت

کتابوں کی ایک قسم وہ ہے جنہیں ہم لکھتے ہیں اور دوسرے پڑھتے ہیں ۔ یہ ہماری بیٹیاں ہوتی ہیں۔ دوسری قسم کو ہم گھروں پر اونچی جگہوں پر طاق میں ، جزدانوں میں لپیٹ کر اور سجا کر الگ رکھ دیتے ہیں، یہ ہماری بزرگ ہوتی ہیں۔ کتابوں کی تیسری قسم وہ ہوتی ہے

بیمارستان

جب ڈاکٹر موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کیونکہ جتنا اس حکومت نے ڈاکٹروں کی بھلائی کا اہتمام کیا ہے اور کسی حکومت نے نہ کیا ہوگا ۔ سڑکیں ہی دکھ لیں تو لگتا ہے عوام کی بھلائی کے لئے نہیں بنائی گئیں بلکہ آرتھو پیڈک ڈاکٹروں کے لئے ہیں۔

بیگم ڈول اور بیگم ڈانواں ڈول

ہم نے ایک امریکی صحافی سے ان کے سابقہ حکمرانوں کی تصاویر ما نگیں تو اس نے ہمیں جو تصویریں بھجوائیں ‘وہ خواتین کی تھیں ۔ہم نے کہا :”جہاں تک ہمیں علم ہے ۔امریکہ میں آج تک کوئی خاتون صدر نہیں بنی ۔“بولے
فہرست 1 سے 12  تک   (704 ریکارڈز )