داسو ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ مکمل ہوگا تو ملک کی تقدیر بدلے گی‘ وزارت میں کسی بھی بدانتظامی پر گرفت ہوگی‘ داسو ڈیم کے لئے اراضی کے حصول کا معاملہ ایک دو ہفتے میں حل کرلیا جائے گا‘

سیاسی مخالفت یا تعصب کی بنیاد پر کوئی کیس نہیں بنایا جائے گا نہ کوئی انتقام لیا جائے گا لیکن اگر کوئی غلط کام سامنے آیا تو پھر احتساب ہوگا‘ میرے حلقے میں دوبارہ گنتی کرائی جائے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کا بجٹ 2019-20ء پر بحث کے دوران اظہار خیال

منگل جون 18:06

داسو ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ مکمل ہوگا تو ملک کی تقدیر بدلے گی‘ وزارت ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ داسو ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ مکمل ہوگا تو ملک کی تقدیر بدلے گی‘ وزارت میں کسی بھی بدانتظامی پر گرفت ہوگی‘ داسو ڈیم کے لئے اراضی کے حصول کا معاملہ ایک دو ہفتے میں حل کرلیا جائے گا‘ سیاسی مخالفت یا تعصب کی بنیاد پر کوئی کیس نہیں بنایا جائے گا نہ کوئی انتقام لیا جائے گا لیکن اگر کوئی غلط کام سامنے آیا تو پھر احتساب ہوگا‘ میرے حلقے میں دوبارہ گنتی کرائی جائے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2019-20ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں 34 منصوبوں کا اعلان کیا گیا‘ 970 ارب کی لاگت تھی ‘ ان میں سے زیادہ تر کھٹائی کا شکار ہوئے۔

(جاری ہے)

آج ان کو مکمل کر یں تو ان کی لاگت دو گنا ہو جائے گی۔ دونوں جماعتوں کے سابق 1700 ارب کے منصوبے تھے اب 3 ہزار ارب کے ہوگئے ہیں۔

ان پر لگایا گیا پیسہ ضائع ہوگیا ہے۔ وزارت میں ہدایت کی ہے کہ کوئی بدانتظامی ہوئی تو اس کی گرفت کریں گے لیکن بلاجواز کوئی اقدام نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 18 ارب روپے مہمند ڈیم کے منصوبے میں بچائے ہیں۔ داسو میں ساڑھے تین سال میں 36 کروڑ روپے روزانہ نقصان ہو رہا ہے۔ سابق حکومت میں زمین کی خریداری نہ ہونے کی وجہ سے یہ نقصان ہوا ہے۔

اس مسئلہ کو ایک دو ہفتے میں حل کرلیا جائے گا۔ داسو کا منصوبہ بھی مکمل ہوگا تو ملک کی تقدیر بدلے گی۔ 2008ء سے 2018ء تک ان جماعتوں کی حکومتوں کے دور میں کوئی کام نہیں ہوا۔ فنڈز لگائے گئے لیکن نتیجہ نہیں نکلا تو اس کا حساب مانگا جائے گا اور سابق حکمرانوں کے اخراجات کے ساتھ موازنہ تو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ذاتی رہائش گاہوں‘ علاج اور سفر پر سرکاری خزانے سے پیسے لگائے جاتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت یا تعصب کی بنیاد پر کوئی کیس نہیں بنایا جائے گا نہ کوئی انتقام لیا جائے گا لیکن اگر کوئی غلط کام سامنے آیا تو پھر احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کا ورکر ہوں‘ کراچی میں شہباز شریف کو ہرایا‘ اس کا ایشو بنایا گیا۔ قوم کے سامنے اعلان کرتا ہوں اور چیلنج کرتا ہوں کہ ایوان کے سامنے کہیں کہ دوبارہ گنتی کراتے ہیں۔

اگر غلط ہوا تو وزارت اور اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دوں گا۔ اگر وہ غلط ثابت ہوئے تو کیا وہ اسمبلی سے استعفیٰ دے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اتنے ہی صاف ہیں تو آج ان کے خاندان کے لوگ جیل میں ہیں اور ضمانتوں پر ہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ پانچ ہزار لوگوں کو لٹکانے سے پہلے گاڑیوں کے پیچھے باندھ کر گھسیٹا جائے تاکہ ملک کے لوگوں کی قسمت بدلی جاسکے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments