جو بھی کوئی ویکسین نہیں لگوا رہا وہ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیروکار ہوا، چیف جسٹس اطہرمن اللہ

ڈونلڈ ٹرمپ بھی ویکسینیشن کیخلاف تھا، ویکسین نہ لگوانے والے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیروکار ہوئے، بائیس کروڑ لوگوں کے حقوق کو متاثر نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ دوران سماعت ریمارکس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 21 ستمبر 2021 21:07

جو بھی کوئی ویکسین نہیں لگوا رہا وہ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیروکار ہوا، ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 ستمبر2021ء) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی ویکسینیشن کیخلاف تھا، اب جو کوئی بھی ویکسین نہیں لگوا رہا وہ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیروکار ہوا، بائیس کروڑ لوگوں کے حقوق کو متاثر نہیں کرسکتے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں زبردستی کورونا ویکسین لگوانے کیخلاف وکیل شاہینہ شہاب الدین کی درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی ویکسینیشن کیخلاف تھا، اب جو کوئی بھی ویکسین نہیں لگوا رہا وہ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیروکار ہوا، خاتون وکیل نے کہا کہ وہ ویکسینیشن کےخلاف نہیں بلکہ زبردستی ویکسین لگوانے کیخلاف ہیں۔

(جاری ہے)

خاتون وکیل نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ میں نے بھی ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی جس پر عدالت نے کہا کہ پھر آپ کورونا پھیلانے میں تعاون کررہی ہیں، آپ کی وجہ سے 22 کروڑ لوگوں کے حقوق کو متاثر نہیں کرسکتے، عدالت نے خاتون وکیل کو ویکسین لگوانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے زبردستی کورونا ویکسی نیشن کیخلاف درخواست مسترد کردی ہے، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کو ریاست کے شہریوں کو جان لیوا کورونا سے بچانے کی پالیسیوں پر اعتماد کرنا چاہیے، ویکسین کی مخالفت کرنے والے دوسرے شہریوں کے حقوق کا خیال کریں، آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کی ضمانت کچھ پابندیوں سے مشروط ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سائنسدانوں اور پروفیشنل محققین نے انسانوں کو بچانے کی ویکسین تیار کی، ڈبلیو ایچ او جیسے اداروں نے ویکسین کو محفوظ قرار دیا، ابھی تک ریکارڈ پرکوئی ایسی ریسرچ نہیں کہ جس سے ثابت ہو کہ ویکسین سے زندگی کو خطرہ ہے، ویکسین نہ لگوانے والے وباء سے بچاؤ کیلئے حکومتی کوشش میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی رکاوٹ کے باعث انسداد پولیو مہم پہلے ہی رکاوٹ بنتی رہی، درخواست گزار نے اپنے مئوقف کے حق میں کوئی ٹھوس مواد پیش نہیں کیا، لہذا کورونا ویکسی نیشن کیخلاف دائر درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

واضح رہے این سی اوسی نے یکم اکتوبر پابندیوں سے متعلق انتباہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت یکم اکتوبرسے ایسے تمام افراد پہ، جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہوگی ، روزمرہ زندگی میں زیر استعمال بہت سی سہولیات کی بندش کر دی جائے گی۔ این سی اوسی نے ہدایت کی کہ ویکسینیشن کا عمل جلد از جلد مکمل کروایں اور زندگی رواں رکھیں۔ وزارت صحت نے نئی پابندیوں سے متعلق فہرست جاری کردی ہے، جس کے تحت یکم اکتوبر سے غیر ویکسین شدہ افراد پر پابندیاں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر، ہوٹل، ریسٹورنٹ، شادی ہال میں بھی داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments