سندھ اسمبلی نے پیر کو ضابطہ فوجداری ( سندھ ترمیمی ) بل کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی

پیر جنوری 22:07

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جنوری2018ء) سندھ اسمبلی نے پیر کو ضابطہ فوجداری ( سندھ ترمیمی ) بل کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی ، جس کے تحت ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 میں ترامیم کی گئی ہیں اور ’’ ضلعی ناظمین ‘‘ اور ’’ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ز ‘ ‘ کے الفاظ حذف کر دیئے گئے ہیں اور ان کی جگہ ’’ حکومت سندھ اور حکومت سندھ کے مجاز افسران ‘‘ اور ’’ڈپٹی کمشنر یا ڈپٹی سپرنٹیڈنٹ آف پولیس ‘‘کے الفاظ درج کیے گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے ایوان کو اس بل کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ ضلعی ناظمین کا نظام اور سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈی ننس 2001 ء منسوخ ہو چکے ہیں ۔ اس لیے ضابطہ فوجداری کے سندھ میں اطلاق کے حوالے سے قانون میں ترمیم کی گئی ہے ۔ اب سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 نافذ ہے ۔ ماضی میں ضلعی ناظمین اور ڈی پی اوز کو سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈی ننس 2001 ء کے تحت جو اختیارات دیئے گئے تھے ، وہ اب حکومت سندھ یا ان کے مجاز افسران ، ڈپٹی کمشنرز اور ایس پیز استعمال کریں گے ۔ سندھ اسمبلی نے صوبے میں ’’ انسٹی ٹیوٹ آف ٹراماٹولوجی آرتھوپیڈکس اینڈ ری ہیبلی ٹیشن ‘‘ کے قیام کے لیے بل کی منظوری موخر کر دی ۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments