اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںڈیفنس میں اے سی ایل سی اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان کا قتل بہت بڑا سانحہ ..

ڈیفنس میں اے سی ایل سی اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے ۔اس واقعہ میں ملوث کسی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا ، ڈی آئی جی آزاد خان

, کیس کے حوالے سے تمام معلومات انتظار کے والد سے شیئر کیں اور ان کی درخواست پر ہی نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے , وقوعہ پر موجود پولیس پارٹی میں سے 8اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔دیکھاجائے گا کہ اہلکاروں نے پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کیا ہے یا نہیں، پریس کانفرنس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جنوری2018ء) ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان نے کہا ہے کہ ڈیفنس میں اے سی ایل سی اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے ۔اس واقعہ میں ملوث کسی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا ۔کیس کے حوالے سے تمام معلومات انتظار کے والد سے شیئر کیں اور ان کی درخواست پر ہی نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔وقوعہ پر موجود پولیس پارٹی میں سے 8اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔

دیکھاجائے گا کہ اہلکاروں نے پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کیا ہے یا نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ڈی آئی جی آزاد خان نے کہا کہ ڈیفنس میں نوجوان انتظار کے قتل کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

فائرنگ کے کافی دیر بعد معلوم ہوا کہ اے سی ایل سی اہلکاروں نے فائرنگ کی ہے ۔پہلے یہ باتیں ہورہی تھیں کہ معاملہ ذاتی دشمنی کا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ ہم نے تمام معلومات مقتول کے والد کے ساتھ شیئر کیں اور ان سے کہا کہ آپ جیسے چاہیں گے ویسا ہی مقدمہ درج کیا جائے گا ۔انتظار کے والد نے درخواست دی کہ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔پولیس کی جانب سے فائرنگ کا معلوم ہونے کے باجود نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ہم مقتول کے والد کا دوبارہ بیان لیں گے اور وہ جن افراد کو نام لے رہے ہیں ان کا بھی بیان لیا جائے گا ۔

ادھوری معلومات مقدمہ کرتے تو وہ بھی غلط ہوتا ۔انہوںنے کہا کہ واقعہ میں جو پارٹی ملوث تھی وہ 9اہلکاروں پر مشتمل تھی ان میں سے 8کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی ہے ۔موقع پر تین افراد نے فائرنگ کی ۔فارنزک سے واضح ہوجائے گا۔یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔کسی بھی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا۔دیکھا جائے گا کہ اہلکاروں نے پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا یا نہیں ۔

مزید کچھ سامنے آئے گا تو اسی تفتیش میں شامل کیا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ ڈیفنس کے علاقے میں گاڑی چوری کی بہت وارداتی ہورہی ہیں ۔اگر یہ گاڑی ان کی ہوتی جو گاڑیاں چوری کررہے ہیں تو پھر کیا ہوتا ۔پولیس کے پاس ری ایکشن ٹائم بہت کم ہوتا ہے۔واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ مقتول انتظار کے ساتھ اس کی دوست موجود تھی ۔

یہ لڑکی عینی شاہد ہے ۔اس کو سکیورٹی فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ابھی اس کا ابتدائی بیان لیا گیا ہے ۔جب ضرورت پڑی تو قانونی طور پر بھی بیا ن لیا جائے گا ۔اس واقعے سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ تمام اہلکاروںکو سادہ لباس نہیں ہونا تھا۔اس حوالے سے بھی محکمہ جاتی کارروائی ہوگی۔سادہ لباس میں کام کرنے کا بھی ایک ایس او پی ہے۔انہوںنے کہا کہ اگر گرفتار ملزمان غلط بیانی کریں گے تو باقی چیزیں موجود ہیں۔یہ بھی دیکھ رہے ہیں اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے بھی یا نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں