پنجاب یونیورسٹی سینیٹ نے فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ کی منظوری دے دی

جمعرات نومبر 19:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2020ء) پنجاب یونیورسٹی سینیٹ نے فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ اور نئی فیکلٹیوں ، سنٹرز اور شعبہ جات کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں سینیٹ کے 150 شرکاء میں سے 145 شرکاء نے نئی فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ، سنٹرز اور شعبہ جات کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔ پنجاب یونیورسٹی سینیٹ کا 356 واں اجلاس گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی زیر صدارت ہوا جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر ، تمام فیکلٹیوں کے ڈینز اور ممبران نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور یونیورسٹی کو سیاست سے دور رکھا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کرونا وائرس کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ یونیورسٹیوں میں قرآن پاک کی ترجمے کے ساتھ تدریس کے سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی کا کردار قابل ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے تعلیم کو اولین ترجیح دی ہے اور یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی جانب سے تمام شعبوں میں خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں جس کی بدولت صرف دو سال کے عرصے میں پنجاب یونیورسٹی نے کیو ایس کی ایشین رینکنگ میں 54 درجے کی بہتری حاصل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ سے یونیورسٹی کی بین الاقوامی رینکنگ کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ کے لئے دو سال سے متعلقہ فورمز پر تفصیلی بحث کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی کلچر کو پروان چڑھانے کی بدولت پنجاب یونیورسٹی کے 9 اساتذہ کو دنیا کے نو فیصد بہترین محققین میں شمار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی کے شعبے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے پروگرامز بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے ایجاد کردہ کپاس کے بیج کو حکومت پاکستان نے منظوری دے دی ہے جس کی کمرشلائزیشن سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب برپا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میںایک وقت میں 70 سے زائد پروفیسرز نہیں رہے جبکہ موجودہ انتظامیہ کے صرف اڑھائی سالہ دور میں یہ تعداد 150 سے زائد ہو چکی ہے اور یہ پروفیسر اپنے اپنے شعبوں میں ملکی ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے سنٹرز کا قیام نہ صرف ریسرچ کلچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ ملک کے سماجی و معاشی مسائل کا حل تلاش کرنے میں بھی مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو ڈیجیٹلائزڈ کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے باعث ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی نے بی ایس ایل تھری لیبارٹری قائم کی ہے اور کرونا وائرس کے ٹیسٹ شروع کئے۔

انہوں نے کہا کہ عوام الناس میں آگاہی کے لئے پنجاب یونیورسٹی نے ویب ٹی وی قائم کیا جبکہ مینٹل ہیلتھ ہیلپ لائن اور ٹیلی میڈیسن سنٹر کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران عوام کو صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لئے کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن ، شعبہ امور طلباء اور شعبہ سپورٹس کے زیر اہتمام مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔

سینیٹ اجلاس میں سینڈیکیٹ اور اکیڈیمک کونسل کی مختلف سفارشات کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پرائیوٹ سیکرٹریز ، سٹینو گرافرز ، قاصد اور دفتری کے عہدوں کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر صدر اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن پروفیسر ڈاکٹر ممتاز انور چوہدری اور سیکرٹری جاوید سمیع نے فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ پنجاب یونیورسٹی کے لئے تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے سینڈیکیٹ ممبران اور اساتذہ کو مبارکباد دی اور وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوںنے کہا ہے کہ علم کی تمام جہتوں میں ہونے والی جدید تبدیلیوں کے باعث تمام فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ لازم و ملزوم ہو چکی تھی تاکہ پنجاب یونیورسٹی جیسے عظیم ادارے کے نظام تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ فیکلٹیوں کی ری سٹرکچرنگ سے تمام شعبوں کی جدید ضروریات کے مطابق معیاری گریجوایٹس کو پیدا کرنے اور بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی رینکنگ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments