جعلی پولیس مقابلوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ عابد باکسر کی سنگین نوعیت کے 10مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

قتل اور فراڈ کے مقدمے میں پچاس، پچاس ،دیگر مقدمات میں ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی گئی پہلے جان کو خطرہ تھا، اب تمام مقدمات کا سامنا کر کے اپنی بے گناہی بھی ثابت کروں گا‘سابق پولیس انسپکٹر کی ضمانت کے بعد میڈیا سے گفتگو

جمعہ جولائی 14:44

جعلی پولیس مقابلوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ عابد باکسر کی سنگین نوعیت کے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی2018ء) لاہور کی مقامی عدالت نے پنجاب کے سابق پولیس افسر اور مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلوں کے ماسٹر مائنڈ عابد باکسر کی سنگین نوعیت کے 10مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرلی اور پولیس کو عابد باکسر کو 4اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔جبکہ عابد باکسر کا کہنا ہے کہ پہلے جان کو خطرہ تھا، اب تمام مقدمات کا سامنا کر کے اپنی بے گناہی بھی ثابت کروں گا۔

پولیس مقابلوں کے اسپیشلسٹ عابد باکسر ایڈیشنل سیشن جج شاہد منیر، ایڈیشنل سیشن جج سجاول خان، ایڈیشنل سیشن جج سمیرا اعجاز چیمہاور ایڈیشنل سیشن جج رحمت علی کی عدالت میں پیش ہوئے۔عابد باکسر کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل پر قتل، اغواء اور دیگر الزامات میں بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن کا مقصد درخواست گزار کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا ہے، لہذا عابد باکسر کی ضمانت منظور کی جائے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ سابق پولیس افسر عابد باکسر پر الزام ہے کہ انہوں نے 6 سال کے دوران مبینہ طور پر 65 مقابلے کیے، جن میں درجنوں لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔تاہم گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق پولیس افسر عابد باکسر کی قتل اور فراڈ کے مقدمے میں پچاس، پچاس جبکہ دیگر مقدمات میں ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عدالت نے ضمانت منظور کی۔

مجموعی طور پر دس مقدمات میں 4اگست تک ضمانت منظورکی گئی ۔عابدباکسر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 11 سال بعد اپنے وطن واپس آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔تھوڑا وقت دیا جائے وہ تمام معاملات کے بارے میں تفصیل سے جواب دیں گے۔خیال رہے لاہور ہائیکورٹ نے متعدد مقدمات میں ملوث سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر کو 27جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے ، عابد باکسر کے سسر نے سابق انسپکٹر کے تحفظ کیلئے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عابد باکسر کی زندگی کو خطرہ ہے لہذا تحفظ فراہم کیا جائے۔عابد باکسر سے متعلق وفاقی حکومت کا ہائیکورٹ میں بیان جمع کراتے ہوئے کہنا تھا عابد باکسر کو دبئی سے پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے، سابق پولیس افسر کو 19 فروری کو پاکستان منتقل کیا گیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments