نومنتخب ایرانی صدر نے جوبائیڈن کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا

ایران پرعائد پابندیاں ختم کر کے امریکا اپنی سنجیدگی ثابت کرسکتا ہے،ایرانی صدر

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل 22 جون 2021 07:04

نومنتخب ایرانی صدر نے جوبائیڈن کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا
تہران (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 22 جون 2021ء )  ایران کے نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی نے امریکی ہم منصب سے ملاقات، میزائل پروگرام اور خطے کے عسکری گروپوں کی حمایت ترک کرنے کے معاملے پر مذاکرات سے انکار کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی نے پہلی پریس کانفرنس میں صدر بائیڈن کو جوہری معاہدے میں شمولیت کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پرعائد پابندیاں ختم کر کے امریکا اپنی سنجیدگی ثابت کرسکتا ہے اور اس سے کم پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

نومنتخب ایرانی صدر سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کریں گے تو ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ”نہیں“۔ اسی طرح میزائل پروگرام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایرانی صدر نے کہا کہ میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

(جاری ہے)

ایران کے نئے صدر کے بارے میں عالمی قوتوں نے اُن کے سخت گیر نظریات کے باعث پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا تھا اور اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ہی صدر ابراہیم رئیسی نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔

ایران کے نئے صدر کے اس بیان پر تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکا نے 1988 میں 5 ہزار سے زائد سیاسی قیدیوں کو پھانسی کی سزا دینے کے الزام پر ابراہیم رئیسی پر پابندی عائد کردی تھی جب وہ ڈیتھ پینل میں بطور پراسیکیوٹر شامل تھے۔60 سالہ ابراہیم رئیسی انقلاب ایران کے فوری بعد سے ہی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ صرف 20 سال کی عمر میں دو صوبوں کے پراسیکیوٹر رہے اور ترقی کرتے ہوئے دارالحکومت کے نائب پراسیکیوٹر اور پھر چیف پراسیکیوٹر مقرر ہوئے۔

بعد ازاں دس سال تک نائب عدلیہ کے سربراہ رہے اور 2019 سے اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حالیہ صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران بھی ابراہیم رئیسی کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں ابراہیم رئیسی پر سیاسی قیدیوں کو پھانسی کی سزا دینے کا الزام عائد کرتی آئی ہیں اور اس الزام کی بنیاد پر ہی امریکا نے بھی ابراہیم رئیسی پر پابندی عائد کی تھی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments