سری لنکن وزارت دفاع کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد سری لنکن ٹیم نے پاکستان آنے کی تصدیق کر دی

پاک فوج کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کیے جانے کی یقین دہانی کے بعد سری لنکن ٹیم پاکستان آنے کے لیے تیار ہو گئی، صدارتی لیول کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعرات ستمبر 19:16

سری لنکن وزارت دفاع کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد سری لنکن ٹیم نے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2019ء) سری لنکن وزارت دفاع کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد سری لنکن ٹیم نے پاکستان آنے کی تصدیق کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکن ٹیم کودورہ پاکستان کیلئے گرین سگنل مل گیاہے۔سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا کا کہنا تھا کہ انہیں وزارت دفاع کی جانب سے پاکستان کے دورے کا گرین سگنل مل گیا ہے۔

جس کے بعد سری لنکا کرکٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ پاکستان آرمی تمام انتظامات کرے گی۔ وزارت دفاع نے ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت پاکستان نے سری لنکن حکومت کو خط لکھ کر ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرادی ہے جس سے سری لنکا کےدورہ پاکستان پر چھائے خدشات کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

سری لنکا انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل (ر) کولا تھنگے نے کہا ہے کہ ٹیم پر پاکستان میں حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر کو بھی سری لنکا میں کسی ممکنہ حملے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ سری لنکا کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں پاکستان آرمی براہ راست سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کرے گی۔ پی سی بی نے سری لنکن کرکٹ بورڈ کوحکومت پاکستان کی جانب سے مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے اور پی سی بی کی جانب سے سری لنکن اسکواڈ کے ویزوں کے لیے خط بھی لکھا جاچکا ہے۔

حکومت پاکستان نے سری لنکن حکومت کوخط لکھ دیا ، مہمان ٹیم کوصدارتی لیول کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔خط میں لکھا گیا کہ کھلاڑیوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، انہیں اچھے ماحول میں کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا، سیریز یاد گار ہوگی۔یہ خط چیئرمین احسان مانی کی اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد لکھا گیا۔سری لنکا کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد 25 ستمبرکو متوقع ہے ، یہاں تین ون ڈے اور تین ٹی 20 میچزکی سیریز27 ستمبرسے 9 اکتوبر تک کھیلی جائے گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments