نوشین کاظمی کے کمرے سے خودکشی سے قبل لکھا گیا ’نوٹ‘ مل گیا

کوئی پریشر نہیں ہے، میں خود اپنی مرضی سے خودکشی کرنے جا رہی ہے ہوں۔طالبہ کے تحریر میں درج الفاظ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ 26 نومبر 2021 16:22

 نوشین کاظمی کے کمرے سے خودکشی سے قبل لکھا گیا ’نوٹ‘ مل گیا
لاڑکانہ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 نومبر2021ء) دو روز قبل چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔تاہم یہ واقعہ خودکشی ہے یا پھر قتل اس کا تعین تفصیلی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔خودکشی کے بعد نوشین کاظمی کی لاش پانچ سے چھ گھنٹے پنکھے سے ہی لٹکتی رہی جب تک اس کے والدین نہیں پہنچ گئے۔پوسٹ مارٹم ٹیم میں شامل ڈاکٹر کے مطابق لاش کے چار پانچ گھنٹے لٹکے رہنے کی وجہ سے گردن کا سائز دو تین انچ بڑھ گیا تھا۔

پولیس ترجمان کے مطابق پنکھے سے نوشین کے فنگر پرنٹ ملے ہیں اور ان کی انگلیوں پر بھی مٹی کے نشان موجود تھے۔نوشین کاظمی کے کمرے سے دو نوٹ بھی ملے ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق ایک نوٹ پیڈ کے قریب اور ایک الماری سے ملا ہے اور دونوں میں تقریبا ایک ہی طرح کا پیغام ہے۔

(جاری ہے)

بیڈ سے ملنے والے نوٹ پر رومن میں تحریر ہے کہ میں خود اپنی مرضی سے ہیکنگ کرنے جا رہی ہے ہوں ، نہ کسی کے پریشر میں کر رہی ہوں۔

نوشین کے والد کے مطابق جب وہ کمرے میں داخل ہوئے تو لاش سامنے لٹکی ہوئی تھی اور دروازے کی کنڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔انہوں نے دونوں نوٹس کی تصاویر لیں تاکہ نوشین کی والدہ سے اس کی لکھائی کی شناخت کریں۔ہدایت کاظمی کے مطابق ان کی بیٹی سے ٹیلیفون پر بھی بات ہوئی تھی جس میں انہوں کسی خدشے یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔پولیس نے الماری میں موجود نوشین کا ٹیلیفون بھی برآمد کر لیا ہے۔

نوشین کاظمی کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا۔ان کے نانا استاد بخاری سندھ کے نامور شاعر اور استاد رہے ہیں۔ ان کے والد سید ہدایت شاہ محکمہ سوشل ویلفئئیر میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر ہیں۔جبکہ طالبہ نوشین کاظمی کی پراسرار موت سے متعلق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔پولیس کے مطابق چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل میں طالبہ نوشین کاظمی کی لاش برآمد ہوئی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نوشین کی موت گلے میں پھندے کے باعث ہوئی، دونوں پھیپھڑوں میں خون کے نشانات ملے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں جسم پر تشدد کے نشانات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ڈی آئی جی نے کہا ہے کہ نوشین کاظمی سندھ کے عوامی شاعر استاد بخاری کی نواسی اور دادو کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید ہدایت حسین شاہ کی بیٹی تھیں۔والد کا کہنا تھا کہ روم میٹ اور دیگر افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ نوشین کی لاش چھ گھنٹے تک پنکھے سے لٹکی رہی، دروازہ توڑ کر لاش کو باہر نکالا گیا تھا۔

لاڑکانہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments