سسر نے دو لوگوں کے ساتھ مل کر بہو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

متاثرہ خاتون کا شوہر گھر میں موجود نہیں تھا، اس کی غیر موجودگی میں خاتون کا سسر دو لوگوں کو گھر لایا، جہاں انہوں نے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان کیخلاف خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا

Shehryar Abbasi شہریار عباسی بدھ اکتوبر 22:41

سسر نے دو لوگوں کے ساتھ مل کر بہو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
اوکاڑہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اکتوبر2020ء) اوکاڑہ میں سسر نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر بہو کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اوکاڑہ کے نواحی گاؤں میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا، سسر نے دو لوگوں کے ساتھ مل کر بہو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کا شوہر گھر میں موجود نہیں تھا، اس کی غیر موجودگی میں خاتون کا سسر دو لوگوں کو گھر لایا، جہاں انہوں نے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ، زیادتی کے بعد ملزمان خاتون کو چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں ۔

پولیس نے خاتون سے زیادتی کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت متاثرہ خاتون روزگار کی تلاش کے سلسلے میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بچوں اور خواتین کیساتھ زیادتی و قتل کے خوفناک واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

ان واقعات کے بعد عوام کا مطالبہ ہے کہ جنسی زیادتی کے ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دے کر عبرت کا نشان بنایا جائے۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے زیادتی مقدمات کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ منگل کے روز ہوئے کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے جنسی تشدد سے متعلق نئی عدالتوں اور احتساب عدالتوں کے قیام کا مسودہ طلب کیا اور نئی عدالتوں سے متعلق بریفنگ لی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے زیادتی مقدمات کیلئے الگ عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دی، اس حوالے سے وزارت قانون متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد جامع پلان پیش کیا جائے۔ نئی خصوصی عدالتیں بچوں، خواتین اور خواجہ سراؤں کے ساتھ زیادتی کیسز کی سماعت کریں گی۔

متعلقہ عنوان :

اوکاڑہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments