کشمیری لوگ پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں اور حکومت امریکا کی جانب دیکھ رہی ہے،سراج الحق

اب ٹینکوں اور میزائلوں پر صرف نام نہیں رکھنے، خود خالد بن ولید، ابدالی اور غوری بننا پڑے گا، حکمرانوں نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر خوشیاں منائیں، امریکا پر کبھی اعتبار نہیں کرنا، وزیر اعظم کو ٹریپ کیا گیا کئی عرب ممالک نے مودی کو اعزازات سے نوازا،جنگ کے ماحول میں مودی کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز دینا کشمیریوں کے خون سے بے وفائی ہے، کیا کشمیری مائیں آپ کی مائیں نہیں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کشمیر بچائو عوامی مارچ سے خطاب

اتوار اگست 20:15

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اگست2019ء) امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کشمیری لوگ پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں اور حکومت امریکا کی جانب دیکھ رہی ہے، فیصلہ کرنا ہے کہ کیا آگے بڑھنا ہے یا نہیں۔پشاورمیں کشمیر بچائو عوامی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کاکہنا تھا کہ کشمیری پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں اور حکومت امریکا کی جانب دیکھ رہی ہے، وزیر اعظم روزانہ بیان دیتے ہیں کہ کشمیر میں بڑا سانحہ ہونے والا ہے، کیا وزیراعظم کسی بڑے قتل کے انتظار میں ہیں، انکاکہنا تھا کہ اب ٹینکوں اور میزائلوں پر صرف نام نہیں رکھنے، خود خالد بن ولید، ابدالی اور غوری بننا پڑے گا،سراج الحق کاکہنا تھا کہ کئی عرب ممالک نے مودی کو اعزازات سے نوازا،جنگ کے ماحول میں مودی کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز دینا کشمیریوں کے خون سے بے وفائی ہے، کیا کشمیری مائیں آپ کی مائیں نہیں سراج الحق کامزید کہنا تھا کہ مسلمان حکمرانوں پر افسوس ہے، کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے ، خدانخواستہ کشمیر ہار گئے تو ایک قطرہ پانی نہیں ملے گا، حکمرانوں نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر خوشیاں منائیں، امریکا پر کبھی اعتبار نہیں کرنا، وزیر اعظم کو ٹریپ کیا گیا، مودی اور ٹرمپ کا طے شدہ منصوبہ ہے۔

(جاری ہے)

کشمیر بچائو مارچ سے خطاب میں صوبائی امیر مشتاق احمدخان کاکہنا تھا کہ کشمیریوں نے لازوال قربانیاں دی، حکومت کی سفارتی کوششوں کا کشمیر پر کوئی اثر نہیں پڑا، ابھی تک بھارتی سفارتخانہ بند نہیں کیا گیا، ہم حکومتی کی ناکام سفارتی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں، مودی پاکستانیوں اور کشمیریوں کا دشمن ہے، عمران خان خود کو ٹیپو سلطان سمجھتا ہے، مودی جب پاکستان کے فضائی حدود سے گزر رہا تھا تو ٹیپو سلطان صاحب آپ کہا تھے، کشمیر قراردادوں سے نہیں بلکہ جہاد سے آزاد ہوگا۔۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments