حکومتی انسدادی اقدامات کی بدولت گزشتہ 15 ماہ میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ تیمور جھگڑا

تمام اداروں کی مشترکہ کوششیں شامل ہیں، پولیو ورکرز، پولیس جوانوں نے جانوں کی قربانیاںدیں۔ شوکت یوسفزئی ژ*قوم کے بچوں کا مستقبل عزیز، موذی مرض کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے۔ کامران بنگش

اتوار 24 اکتوبر 2021 18:10

_پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 اکتوبر2021ء) حکومت کے مؤثر انسداد پولیو اقدامات کی بدولت گزشتہ 15 ماہ میں پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا۔ اس موذی مرض کے خاتمے میں تمام ادارے مل کر کوششیں کر رہے ہیں اور اب تک انسداد پولیو مہمات کو کامیاب بنانے کے لیے کئی پولیو ورکرز اور پولیس جوانوں نے جان کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ قوم کے بچوں کا مستقبل عزیز ہے جسے محفوظ بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورا ملک پولیو فری ہوگا۔

خیبر پختونخوا میں ساڑھے 15 ملین کورونا ویکسین لگائی جا چکی ہیں۔ آئندہ ماہ ہونے والی خسرہ سے بچاؤ کی مہم کو بھی کامیاب بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر محنت و ثقافت شوکت علی یوسفزئی اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ اور ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران خان بنگش نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر سول سیکرٹریٹ پشاور میں انسداد پولیو میں اہم کردار ادا کرنے والوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع رکن صوبائی اسمبلی رابعہ بصری، ڈویژنل کمشنرز، ریجنل پولیس آفیسرز، ای او سی کوآرڈینیٹر عبدالباسط، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر عارف، روٹری انٹرنیشنل، یونیسیف اور دیگر عالمی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے تاہم پاکستان اور افغانستان میں یہ اب بھی موجود ہے جس کی مکمل بیخ کنی کے لئے کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور حکومت کے اٹھائے گئے سنجیدہ اقدامات تسلسل سے جاری ہیں۔

انہی اقدامات کی بدولت میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ گزشتہ 15 ماہ میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ پشاور سے لئے گئے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو کے وائرس نہیں پایا گیا۔ صوبائی وزیر نے تمام سٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لئے کوششیں کی گئی ہیں۔ پولیس اہل کار وں اور پولیو ورکرز نے انسدادی مہمات کو کامیاب بنانے کے لئے جام شہادت نوش کرتے رہے ہیں۔

آئندہ 3 سالوں تک پولیو فری رہنا اصل چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق تمام تر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ دسمبر 2022 تک پرائمری سطح پر صحت کی بہترین سہولیات فراہم کر دیں گے۔ اس مقصد کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیا گیا ہے۔ صوبے کے دور دارز علاقوں میں صحت عملے کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

کورونا ویکسینیشن کے حوالے انہوں نے کہا کہ صوبے میں ساڑھے 15 ملین ویکسینز لگائی جا چکی ہیں۔ 25 ایسے اضلاع ہیں جہاں پر 50 فیصد سے زائد کورونا ویکسینشین کی جا چکی ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس کی سو فیصد آبادی کو نجی و سرکاری ہسپتالوں میں مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت علی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بڑے مقصد کے حصول کے لیے صرف حکومت نہیں بلکہ تمام اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

والدین سے اپیل ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلائیں۔ 15 سے 27 نومبر تک ہونے والی خسرہ کے خاتمے کی مہم کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے جس میں 5 سے 15 سال تک کے بچوں خسرہ رویکسین لگائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک اسی طرح مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا تھا کہ صحتمند پاکستان وزیراعظم عمران خان کا وژن اور وزیراعلیٰ محمود خان کا عزم ہے۔

بچوں کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پولیو مہمات کو کامیاب بنانے والے بہادر پولیو ورکرز اور پولیس جوان قوم کے محسن اور ہیروز ہیں۔ کامران بنگش نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ صوبے کے ہائی رسک علاقوں سے بھی پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی عدم موجودگی بھی اہم۔سنگ میل ہے۔ علماء کرام اور والدین نے پولیو مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے جبکہ انسداد پولیو کی مؤثر کاوشوں پر تمام ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ تقریب کے اختتام پر ڈویژنل کمشنرز، پولیس، میڈیا، علماء اور پولیو ایڈووکیٹ ذیشان خان کو پولیو کے خاتمے کیلئے انکی خدمات کے اعتراف میں شیلڈ پیش کی گئیں۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments