خیبرپختونخوا میں خواتین سے متعلق قانون سازی کے موثر نفاذ کی جانب اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،محمودجان ڈپٹی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی

منگل 30 نومبر 2021 00:22

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 نومبر2021ء) ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں خواتین سے متعلق قانون سازی کے موثر نفاذ کی جانب اقدامات اٹھائے جا رہے ہیںجبکہ صنفی بنیاد پر تشدد کے حوالے سے 16 دن کی سرگرمی پہلی بار زیر بحث آئی ہے۔ محمود جان کا کہنا تھا کہ عورتوں پر تشدد پوری دنیا میں ہو رہا ہے یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے خوشی ہے کہ قانون سازی ہورہی ہے اور خواتین کو ان کے حقوق مل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چئیر پرسن نیشنل کمیشن فار سٹیٹس آف و ومن نیلوفر بختیار نے خواتین کو درپیش صنفی امتیاز اور تشدد کے خاتمے کے لیے بہت کام کیا ہے، وہ صنفی تشدد اور خواتین سے متعلق دیگر مسائل کے حوالے سے بارے میں آگاہی سیشن کے لیے ملک بھر میں منعقد ہونے والے سیمینارز میں شرکت کر رہی ہیں اور آج خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان نے نیشنل کمیشن فار سٹیٹس آف و ومن، یو این وومن اور خواتین پارلیمانی کاکس خیبر پختونخوا اسمبلی کے زیر انتظام صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ سرگرمیوں کے حوالے سے اسمبلی جرگہ حال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایم پی اے ڈاکٹر سمیرا شمس چیر پرسن پارلیمنٹری وومن کوکس، ایم پی ایز مدیحہ نثار، رابعہ بصری، شگفتہ ملک، نعیمہ کشور، حمیرا خاتون، آسیہ صالح خٹک، عائشہ نعیم، ساجدہ حنیف، ریحانہ اسماعیل، بصیرت بی بی، ڈاکٹر آسیہ اسد نے شرکت کی۔

تقریب کا تھیم آرنج رنگ تھا جو جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے سال 2021-22 کے دوران خواتین کے خلاف تشدد کے لیے منتخب کیا ہے۔ایم پی اے ڈاکٹر سمیرا شمس چیر پرسن ومن پارلیمنٹری کوکس خیبرپختونخوا اسمبلی کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وومن پارلیمنٹری کوکس نے خواتین کے حقوق کے لئے بیشتر بل پاس کرائے ہیں۔ ڈومیسٹک وائلنس بل 21-20 20 سال بعد ایسی قانون سازی ہوئی۔

ہم سے پہلی جماعتوں نے گھریلو تشدد پر کوئی کام نہیں کیا۔ گھریلو تشدد اور دیگر بل جو عورتوں کے حقوق کے لیے پاس کرائے ہیں ان میں خیبرپختونخوا بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2015، خیبرپختونخوا کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن ایکٹ 2016، جہیز برائیڈل گفٹ اینڈ میرج فنکشن رسٹرکشن ایکٹ 2017، ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015 شامل ہیں۔ ڈاکٹر سمیرا شمس کا کہنا تھا کہ جو بل پاس ہوتے ہیں ان پر عملدرآمد کرانا سرکاری اداروں کا کام ہے۔

ہم ان کی نگرانی کر رہے ہیں اور اگر اس میں کسی قسم کی کوتاہی کی گئی تو متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل پاس ہو جاتے ہیں مگر ان کا نفاذ نہیں ہوتا اسی وجہ سے وومن پارلیمنٹری کوکس کا قیام ہوا تاکہ اس کی نگرانی کی جائے۔ ڈاکٹر سمیرا شمس کا کہنا تھا کہ چھ دارالامان سالانہ ترقیاتی بجٹ 20 21 میں شامل ہیں جو کہ ڈی آئی خان، نوشہرہ، صوابی، بونیر، لوئردیر اور شانگلہ میں ہونگے جبکہ ہوم بیسڈ ورکرز کے لیے بھی ایک زبردست قانون سازی کی گئی ہے اور ان کی مرضی کی شکیں قانون سازی میں ڈالی گئی ہیں۔

ایم پی اے ریحانہ اسماعیل سینئر وائس چیئر پرسن وومن پارلیمنٹری کوکس خیبرپختونخوا اسمبلی کا کہنا تھا کہ عورتوں کو اسلام نے جو حقوق دیے ہیں ہمیں چاہئے کہ وہ ان کو پوری طرح سے دیے جائیں۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments