بلوچستان حکومت نے کریمنل لاء آرڈیننس جاری کردیا

کوئی بھی کسی گلی، سڑک یا ہائی وے پر جلسہ جلوس یا احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا جاسکے گا، خلاف ورزی کرنے پر6ماہ قید اور 10ہزار جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔آرڈیننس کا متن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 27 نومبر 2021 00:01

بلوچستان حکومت نے کریمنل لاء آرڈیننس جاری کردیا
کوئٹہ (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر 2021ء) بلوچستان حکومت نے کریمنل لاء آرڈیننس جاری کردیا، جس کے باعث گلی ، سڑک یا ہائی وے پر جلسہ جلوس یا احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا جاسکے گا، خلاف ورزی کرنے پر6ماہ قید اور 10ہزار جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان حکومت نے کریمنل لاء آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ کریمنل لاء آرڈیننس کے بعد گلی ، سڑک یا ہائی وے پر کوئی شخص ریلی، جلسے جلوس یا احتجاجی مظاہرے نہیں کرسکے گا، اگر کسی نے آرڈیننس کی خلاف ورزی کی تو اس کیخلاف قانونی کاروائی کی جائے گی، ایسے افراد کو6 سے 8 ماہ قید اور 10 ہزار جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

کریمنل لاء آرڈیننس گورنر بلوچستان نے جاری کیا ہے۔ کریمنل لاء آرڈیننس فوری نافذالعمل ہوگا۔اسی طرح آج سندھ اسمبلی نے بھی اپوزیشن کے سخت احتجاج اور شورشرابے کے باوجودسندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل2021ء منظور کرلیا ہے۔

(جاری ہے)

بل صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے پیش کیاتھا۔ بل ایوان میں پیش کئے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے اس بات پر سخت احتجاج کیا کہ انہیں بل کی نقل تک فراہم نہیں کی گئی۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ میرے پاس اپوزیشن جماعتوں کی تحریری تجاویز موجود ہیں اور ہم نے ان میں سے کئی تجاویز کو بل میں شامل کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ بلدیاتی ۱الیکشن نئے قانون کے تحت نہیں چاہتے تو پھر الیکشن پرانے قانون پر کروا لیتے ہیں۔ ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی صحیفہ نہیں کہ بعد میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

بل جب ایوان میں متعارف کرویا گیا تو اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ، زبردست احتجاج کیا۔اس موقع پر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں اور اپوزیشن ارکان نے بل نا منظور نامنظور کے نعرے لگائے۔اس دوران لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کی ایوان سے مرحلہ وار منظوری لی گئی۔احتجاج کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور کچھ ہی دیر میں ایوان نے ترمیمی بل کی منظوری دیدی اور وزیر بلدیات کی جانب سے کہا گیا کہ بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔ 

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments